سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 483 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 483

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 463 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننا کیوں ضروری ہے ؟ پس اس وجہ سے جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ اسلام کی عظمت اور قرآن کریم کی عظمت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور وقار دنیا میں دوبارہ آپ کے ذریعہ سے قائم ہو رہا ہے۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم کسی بھی وجہ سے کسی احساسِ کمتری کا شکار ہوں اور نوجوانوں کو اس بارے میں حوصلہ رکھنا چاہیے۔ جہاں جہاں بھی نوجوان active ہیں اللہ کے فضل سے مخالفین کا منہ بند کر رہے ہیں۔ پھر ہم میں سے ہر ایک کو یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننا کیوں ضروری ہے۔ تیرہ چودہ سال کے بچے بھی یہ سوال کرتے ہیں اور والدین اُن کو صحیح طرح جواب نہیں دیتے۔ اس بارے میں میں پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ میں ہی بیان کر دیتا ہوں۔ یہ ایک تفصیلی ارشاد ہے۔ اس کو ذیلی تنظیمیں بعد میں اس کے حصے بنا کر سمجھانے کے لئے استعمال کر سکتی ہیں اور اس سے مزید رہنمائی بھی لے سکتی ہیں۔ ایک موقع پر بعض مولویوں نے آپ سے سوال کیا کہ ہم اب نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔ روزے بھی رکھتے ہیں۔ قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان بھی لاتے ہیں تو پھر ہمیں آپ کو ماننے کی کیا ضرورت ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ: دو دیکھو جس طرح جو شخص اللہ اور اُس کے رسول اور کتاب کو ماننے کا دعویٰ کر کے اُن کے احکام کی تفصیلات مثلاً نماز ، روزہ، حج، زکوۃ، تقویٰ طہارت کو بجانہ لاوے اور اُن احکام کو جو تزکیہ نفس، ترک شہر اور حصول خیر کے متعلق نافذ ہوئے ہیں، چھوڑ دے، وہ مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں ہے“۔ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے لیکن یہ ساری نیکیاں نہ بجالائے، برائیوں کو نہ چھوڑے، نیکیوں کو اختیار نہ کرے تو فرمایا کہ وہ مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔ ” اور اُس پر ایمان کے زیور سے آراستہ ہونے کا اطلاق صادق نہیں آسکتا۔ اسی طرح سے جو شخص مسیح موعود کو نہیں مانتا یا ماننے کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ بھی حقیقت اسلام اور غایت نبوت اور غرضِ رسالت سے بے خبر محض ہے“۔ یعنی کہ اُس کو پتہ ہی نہیں کہ نبوت کی کیا ضرورت ہے؟ کیا