سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 480 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 480

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 460 علم سے تعلق رکھتا ہے۔ کیونکہ ہمیں علم ہونا چاہیے کہ ہم کیوں کسی عقیدے پر قائم ہیں اور اسی طرح بعض باتیں جو ہمیں کرنے کے لئے کہا جاتا ہے، جن کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، اُن کے بارے میں بھی علم ہو کہ کیوں ہمیں کہا جاتا ہے اور کیوں یہ ایک احمدی مسلمان کے لئے ضروری ہے؟ اس میں مالی قربانی ہے، اس بارے میں لوگ تفصیل جاننا چاہتے ہیں۔ دوسرے اس تعلق میں عہدیداران کی بعض انتظامی ذمہ داریاں ہیں اُن کو کس طرح نبھانا ہے اور کس حد تک اختیارات ہیں۔ بہر حال اس تعلق میں ان دو باتوں کی طرف میں مختصر اتوجہ دلاؤں گا۔ پہلی بات تو یہ ہے جو عقیدے سے تعلق رکھتی ہے پہلی بات تو یہ ہے جو عقیدے سے تعلق رکھتی ہے اور ایک احمدی کے لئے اس کا جاننا ضروری ہے۔ عموماً اس کا بیان تو ہوتا بھی رہتا ہے لیکن اُس توجہ سے نہیں ہو تا یا اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے نہیں ہوتا کہ ہمارے اپنے لوگوں کی بھی تربیت کی ضرورت ہے۔ عام طور پر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ ایک پیدائشی احمدی ہے، اُسے علم ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض کیا ہے اور آپ کو ماننا کیوں ضروری ہے ؟ نئے آنے والوں کو تو اس کا اچھی طرح علم ہوتا ہے، پڑھ کر تحقیق کر کے آتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا جو اتنے زیادہ active نہیں ہیں، اجتماعات پر نہیں آتے ، بعض جلسوں پر بھی نہیں آتے اور ہر ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں، چاہے تھوڑی تعداد ہو، ایک تعداد ہے جس کی طرف ہمیں فکر سے توجہ دینی چاہیے اور اس کے لئے خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ کی تنظیموں کو بھی اپنے پروگرام بنا کر اس پر کام کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اسی طرح جماعتی نظام بھی ایسے لوگوں کو دھتکارنے کے بجائے یا یہ کہنے کے بجائے کہ ان کی اصلاح نہیں ہو سکتی، انہیں قریب لانے کی کوشش کرے۔ سوائے اُن کے جو کھل کر کہہ دیتے ہیں کہ میر تمہارے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن ایسے لوگوں کے بارے میں بھی جو جماعت کا main جماعتی نظام ، mainstream ہے، اُس کو چاہیے کہ ذیلی تنظیموں کو ان لوگوں کی معلومات دے دیں، کیونکہ بعض بڑی عمر کے عہدیداران کے سخت رویے کی وجہ سے بھی لوگ ایسے جواب دے دیتے ہیں۔ ذیلی تنظیمیں ان کے ہم عمر یا کچھ حد تک ہم مزاج لوگوں