سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 481 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 481

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 461 کے ذریعہ سے اُن کی اصلاح کی طرف توجہ دے سکتی ہیں۔ اور جہاں یہ طریق اپنایا گیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیابی بھی ہوئی ہے۔ بعض جگہ بعض سیکر ٹریان تربیت ایسے بھی ہیں جنہوں نے تربیت کے لئے ایسے لوگوں کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے پروگرام بنائے اور اس کا اچھا اور بڑا خاطر خواہ اثر ہوا۔ بڑی اچھی response ان لوگوں سے ملی۔ بہر حال کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم نے حتی الوسع ہر احمدی کو ضائع ہونے سے بچانا ہے۔ یہ ہر عہدیدار کی ذمہ داری ہے، ہر مربی کی ذمہ داری ہے اور ہر سطح پر ذیلی تنظیموں اور جماعتی نظام کی ذمہ داری ہے۔ ہر احمدی کو پتہ ہونا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود کی بعثت کی غرض کیا ہے اس اصولی بات کے بعد جو پہلی بات میں کرنا چاہتا ہوں، وہ جیسا کہ میں نے کہا، ہر احمدی کو پتہ ہونا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض کیا ہے ؟ اور یہ کہ آپ کو ماننا کیوں ضروری ہے ؟ اس کے لئے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ہی میں بیان کروں۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : دو مجھے بھیجا گیا ہے تاکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کروں اور قرآن شریف کی سچائیوں کو دنیا کو دکھاؤں اور یہ سب کام ہو رہا ہے لیکن جن کی آنکھوں پر پٹی ہے وہ اس کو دیکھ نہیں سکتے حالانکہ اب یہ سلسلہ سورج کی طرح روشن ہو گیا ہے اور اس کی آیات و نشانات کے اس قدر لوگ گواہ ہیں کہ اگر اُن کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو اُن کی تعداد اس قدر ہو کہ رُوئے زمین پر کسی بادشاہ کی بھی اتنی فوج نہیں ہے“۔ فرمایا کہ : ” اِس قدر صورتیں اس سلسلہ کی سچائی کی موجود ہیں کہ ان سب کو بیان کرنا بھی آسان نہیں۔ چونکہ اسلام کی سخت توہین کی گئی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسی توہین کے لحاظ سے اس سلسلہ کی عظمت کو دکھایا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 9۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) اور یہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کی بات نہیں ہے بلکہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارے میں اور قرآن شریف کی سچائی کو دنیا میں قائم کرنے کے بارے میں اپنے لٹریچر میں ، اپنی کتب میں ، اپنے ارشادات میں جس طرح روشنی ڈال