سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 479
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 459 ہمیں علم ہونا چاہیے کہ ہم کیوں کسی عقیدے پر قائم ہیں کچھ دن ہوئے ، دینی تربیتی امور کا ایک جائزہ اتفاق سے ایک عہدیدار کے ساتھ باتوں باتوں میں میرے سامنے آیا۔ اُس کے بعد پھر میں نے اُن سے سے تحریری رپورٹ بھی منگوائی۔ اس کو دیکھ کر مجھے خیال ہوا کہ بعض امور ایسے ہیں جن پر مجھے کچھ کہنا چاہیے۔ جماعت کا ایک طبقہ جو ہے، اُس کو اس کی ضرورت ہے اور اسی طرح کچھ ایسی باتیں ہیں جن کی عہدیداروں کو بھی ضرورت ہے۔ یہ امور جس طرح یہاں کی جماعت کے لئے اہم ہیں اسی طرح دنیا کی دوسری جماعتوں کے لئے بھی اہم ہیں، یا نئی نسل اور اُن افراد کے لئے بھی ان کا جاننا ضروری ہے جو زیادہ active نہیں ہیں، زیادہ تر جماعتی کاموں میں involve نہیں ہیں۔ یہ ایسے امور ہیں کہ جن کو عموماً کھول کر بیان نہیں کیا جاتا یا مربیان اور عہدیداران افرادِ جماعت کے سامنے اس طرح احسن رنگ میں ذکر نہیں کرتے جس طرح ہونا چاہیے جس کی وجہ سے بعض ذہنوں میں، خاص طور پر نوجوانوں میں سوال اُٹھتے ہیں لیکن وہ سوال کرتے نہیں۔ اس لئے کہ جماعتی ماحول یا اُن کا عزیز رشتے دار یا والدین ان سوالوں کو برا سمجھیں گے یا وہ کسی مشکل میں پڑ جائیں گے حالانکہ چاہیے تو یہ کہ مربیان اور مبلغین سے سوال کر کے یا عہدیداروں سے جو علم رکھتے ہیں اُن سے سوال کر کے، یا اپنی ذیلی تنظیموں کے عہدیداروں سے سوال کر کے پوچھیں۔ خدام الاحمدیہ اور لجنہ سے تعلق رکھنے والوں اور تعلق رکھنے والیوں کا اپنی اپنی متعلقہ ذیلی تنظیموں سے اس طرح تعلق ہونا چاہیے کہ آسانی سے سوال کر سکیں تا کہ معلومات میں بھی اضافہ کریں اور کوئی شکوک و شبہات ہیں تو وہ بھی دور کریں یا مجھے بھی لکھ سکتے ہیں۔ بعض لوگ مجھے دوسرے ملکوں سے بھی اور بعض دفعہ یہاں سے بھی لکھتے ہیں اور انتہائی ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے لکھتے ہیں تو اُن کے سوالوں کے جواب دیئے بھی جاتے ہیں۔ بہر حال یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض عہدیدار بھی اپنے فرائض اور دائرہ کار کے بارے میں تفصیل نہیں جانتے اور اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا نہیں کرتے۔ جو باتیں میں بیان کرنے لگا ہوں اس میں ایک پہلو تو عقیدے اور اُس کے بارے میں