سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 48 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 48

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 28 عمر تک کے ہیں کہ بڑوں سے تجربہ حاصل کریں۔ اور بڑوں کو چاہیے کہ اپنے تجربے سے اس عمر کے انصار کو تربیت دیں اور اُن کو راہنمائی کریں اور برداشت کرنے کا بھی مادہ پیدا کریں۔ یہ نہیں کہ ہم بڑے ہیں تو اس لئے ہمارے پاس ہی سارے عہدے ہونے چاہئیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ ایک الہی قدرت کا کرشمہ ہے کہ ایک زمانہ انسان پر ایسا آتا ہے جب اس کے جسمانی قوی تو نشو و نما پاتے ہیں مگر اس کے دماغی قوئی ابھی پردہ میں ہوتے ہیں۔ یہ نہیں کہتا کہ ان میں انحطاط واقع ہو جاتا ہے اُن میں گراوٹ آنی شروع ہو جاتی ہے اُن میں کمی شروع ہو جاتی ہے۔ انحطاط نہیں بلکہ قوی دماغیہ ایک پردے کے اندر رہتے ہیں اور یہ زمانہ وہ ہو تا ہے جو 25 سال سے 40 تک کی عمر کا ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد ایک زمانہ ایسا آتا ہے جو جسم میں نشو نما اور ارتقاء کی طاقت تو نہیں رہتی مگر جو اسے کمال حاصل ہو چکا ہوتا ہے وہ قائم رہتا ہے۔ یہی وہ زمانہ ہے جس میں خدا تعالیٰ عام طور پر نبیوں کو اصلاح خلق کے لئے کھڑا کیا کرتا ہے گویا یہ زمانہ بَلَغَ اشد لا کا زمانہ ہوتا ہے ، طاقتیں اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہیں۔ پس جب میں نے انصار اللہ میں شمولیت کے لئے چالیس سال سے اوپر کی شرط رکھی تو اس کے معنے یہ تھے کہ کام کرنے کا بہترین زمانہ انہیں حاصل تھا۔ صف دوم کی وجہ سے نئی قوت اور ہمت پیدا ہو چکی ہے بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے ہم انصار کی عمر کو پہنچ گئے ہیں اس لئے اب ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ فرمایا کہ بشر طیکہ اس عمر والوں سے فائدہ اٹھایا جاتا مگر مجھے افسوس ہے کہ انہوں نے اس حکمت کو نہ سمجھا اور کام اُنہی لوگوں کے سپر در کھا جو زیادہ عمر کے ہیں۔ حالانکہ اگر سارے کے سارے کام اُن لوگوں کے سپرد کر دئے جائیں جو 60 سال سے اوپر یا 70 سال کے قریب ہوں تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ لوگوں کے پاس دماغ تو ہو گا مگر کیونکہ کام کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں نہیں ہوں گے اس لئے وہ کام خراب ہو جائے گا۔ مفید نتائج کا حصول نہیں ہو گا۔ لیکن الحمد للہ جب سے صف دوم قائم ہوئی ہے ، ہر طرح کے انصار اپنے کاموں میں شامل ہوتے ہیں تو عاملہ کے ممبر ان کے علاوہ بھی جو دوسرے انصار ہیں مجلس عاملہ کو اور انصار اللہ کی تنظیم کو کوشش کرنی چاہیے کہ