سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 47

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 27 ہو گی اور اطفال کی بھی ضرورت ہو گی۔ ورنہ اکیلا آدمی کوئی کام نہیں کر سکتا۔ اکیلا نبی بھی کوئی کام نہیں کر سکتا۔ دیکھو حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حواری دیئے ہوئے تھے اور رسول کریم کو بھی اللہ تعالیٰ نے صحابہ کی جماعت دی تھی۔ اسی طرح اگر خلافت قائم رہے گی تو ضروری ہے کہ اطفال الاحمدیہ ، خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ بھی قائم رہیں۔ اور جب یہ ساری تنظیمیں قائم رہیں گی تو خلافت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے قائم رہے گی انشاء اللہ ۔ انصار اللہ خصوصیت کے ساتھ اپنے کام کی نگرانی کریں پھر آپ نے فرمایا کہ انصار اللہ خصوصیت کے ساتھ اپنے کام کی نگرانی کریں تاکہ ہر جگہ اور ہر مقام پر ان کا کام نمایاں ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے اور محسوس کرنے لگ جائیں کہ یہ ایک زندہ اور کام کرنے والی جماعت ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں جب تک انصار اللہ اپنی ترقی کے لئے صحیح طریق اختیار نہیں کریں گے اس وقت تک انہیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔ میں سمجھتا ہوں بڑی عمر کے لوگوں کو ضرور یہ احساس اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے کہ وہ شباب کی عمر میں سے گزر کر اب ایسے حصہ عمر میں گزر رہے ہیں جس میں دماغ تو سوچنے کے لئے موجود ہوتا ہے مگر زیادہ عمر گزرنے کے بعد ہاتھ پاؤں محنت مشقت اور کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ اس کی وجہ سے اُن کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے کاموں کے سر انجام دینے کے لئے کچھ نوجوان سیکریٹری چالیس سال کے اوپر کے مگر زیادہ عمر کے نہ ہوں، مقرر کر لیں جن کے ہاتھ پاؤں میں طاقت ہو اور وہ دوڑنے بھاگنے کا کام آسانی سے کر سکیں۔ تاکہ ان کاموں میں سستی اور غفلت کے آثار پیدا نہ ہوں۔ آپ نے اس وقت فرمایا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر 40 سال سے 55 سال کی عمر تک کے لوگوں پر نظر دوڑاتے تو ضرور اس عمر کے لوگوں میں ایسے لوگ مل جاتے جن کے ہاتھ پاؤں بھی ویسے ہی چلتے ہیں جیسے اُن کے دماغ چلتے ہیں۔ اسی لئے حضرت خلیفة المسیح الثالث نے 40 سال سے 55 سال تک کے لئے بعد میں انصار اللہ کی صف دوم کا قیام فرمایا اور اس کے لئے ایک نائب صدر بھی علیحدہ ہوتا ہے تو جو بڑی عمر سے ہیں ان لوگوں کو چاہیے کہ جو 40 سال سے 55 سال کی