سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 477
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 457 قاصر رہیں گے جس کے نتیجہ میں احمدی ایک عجیب سے تذبذب کا شکار ہونے لگیں گے۔ اور چند عہدیداران کے ناروا سلوک کی وجہ سے بعض احمدی نہ صرف یہ کہ مایوس ہوں گے بلکہ آہستہ آہستہ نظام جماعت سے بھی ہٹتے چلے جائیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس وجہ سے وہ جماعت سے ہی قطع تعلقی اختیار کر لیں اور خلیفہ وقت کے بارے میں ایک غلط تاثر اپنے ذہنوں میں رکھ لیں۔ چنانچہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ممبر ان جماعت سے حسن سلوک نہ رکھنے کی وجہ سے بہت گہرے منفی اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ میری طرف سے منظور شدہ ہر جماعتی عہدیدار کو لازما یہ پہلو پیش نظر رکھنے چاہئیں۔ مزید بر آں وہ تمام لوگ جو عہد یدار تو نہیں لیکن آج بحیثیت نمائندہ مجلس شوریٰ یہاں موجود ہیں اور کوئی نہ کوئی جماعتی خدمت بجالاتے ہیں ان پر بھی لازم ہے کہ وہ بھی کام کرتے ہوئے ان امور کو پیش نظر رکھیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔ جماعتی عہدیداران کو رضا کاران کی ٹیمیں بنا کر کام کرنا چاہیے حضور انور ایدہ اللہ تعالی نے ٹیمیں بنا کر کام کرنے کی حکمت بیان فرماتے ہوئے ہر کامیابی کا دارو مدار دعا کو قرار دیا۔ نیز فرمایا کہ با قاعدہ طور پر مقرر کیے جانے والے جماعتی عہدیداران کو رضا کاران کی ٹیمیں بنا کر کام کرنا چاہیے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ وہ ان کے کاموں میں معاون و مدد گار ہوں گے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کام کرنے والوں کی ایک کھیپ تیار ہوتی جائے گی جو مستقبل میں جماعتی ذمہ داریوں کو سنبھالنے والے ہوں گے۔ پھر اس ٹیم کا مقصد صرف یہی نہ رہ جائے کہ اس نے حکم کی تعمیل میں کام کرنا ہے بلکہ کام لینے کے ساتھ ساتھ عہدیداران کو یہ بھی چاہیے کہ وہ گاہے بگاہے اپنی ٹیم کے ممبر ان سے تبادلہ خیال کریں، مختلف کاموں میں مزید بہتری لانے کے لیے ان سے مشورہ کریں اور جب آپس میں تبادلہ خیال، سوچ بچار اور مشورہ کر لینے کے بعد ایک حتمی لائحہ عمل طے پا جائے تو پھر اس تمام عمل کے سب سے ضروری پہلو کو نظر انداز نہ ہونے دیں یعنی یہ کہ آپ نہایت عجز و انکسار اور مستقل مزاجی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں لگ جائیں کہ اللہ تعالیٰ ہر اس تدبیر میں جو آپ نے اپنے مفوضہ امور کی انجام دہی کے لئے سوچی ہے ، برکت عطا فرمادے۔