سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 476
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 456 ہوئے فرمایا کہ ہر عہدیدار کو یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ جماعت میں بنیادی طور پر ہر عہدہ ایک امانت ہے۔ اور امانتوں پر پورا اترنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے واضح احکامات موجود ہیں ۔۔۔۔ تمام عہدیداران کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اس امانت کا حق ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں جو ان کے سپرد کی گئی ہے۔ اور امانت کا حق ادا کرنے کا طریق یہ ہوتا ہے کہ جو بھی ذمہ داری آپ کو سونپی گئی ہے اسے اپنے پورے دل اور پوری جان، نیک نیتی، انتہائی درجہ کی ایمانداری اور متانت سے پورا کرنے کی کوشش کریں۔ اس لیے ہر عہدیدار کا نمونہ ایسا ہو کہ وہ اپنے وقت کو قربان کرنے کے لیے ہر دم تیار رہے اور ہر دم اپنے کاموں کو بہتر طور پر کرنے کے لیے سوچ اور تدبیر میں لگار ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوسروں سے شفقت سے پیش آنے کے حکم کے مخاطب صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نہیں تھے بلکہ وہ تمام لوگ بھی یکساں طور پر اس ارشاد کے مخاطب ہیں جنہیں ذمہ داریوں کا امین ٹھہرایا گیا ہے۔ آج احمد ی ہی وہ لوگ ہیں جو اُسوہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کا دعویٰ رکھنے کے ساتھ سات ساتھ اس بات کی پوری کی لی پوری کوشش بھی کرتے ہیں کہ ہم اس دعویٰ کو سچا ثابت کرنے والے بنیں ۔ ہم وہ لوگ ہیں جو یہ خواہش رکھتے ہیں کہ نظام جماعت احمد یہ کلی طور پر اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تابع چلنے والا ایک نظام ہو۔ لہذا یہ تمام باتیں تقاضا کرتی ہیں اور جیسا کہ میں پہلے ذکر بھی کر آیا ہوں کہ وہ تمام افراد جنہیں عہدہ کی ذمہ داری سونپ کر ایک لحاظ سے امین ٹھہرایا گیا ہے انہیں لوگوں کے ساتھ شفقت، محبت اور احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے ، انہیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ان کے دل نرم اور ممبران جماعت احمدیہ کی محبت سے پر ہوں، وہ اپنے ماتحتوں یا اپنے سٹاف سے صرف نرمی اور محبت کا سلوک ہی نہ کرتے ہوں بلکہ ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا خیال رکھنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہو ، ان کے دل اس قدر صاف اور شفیق ہوں کہ لوگ ان کی طرف محبت سے کھنچے چلے آئیں اور وہ بھی انہیں سینے سے لگانے والے ہوں۔ کجا یہ کہ ان کے اخلاق لوگوں کو دور بھگانے والے بنیں۔ کیونکہ اگر ان کے دلوں میں سختی ہو گی تو وہ اعلیٰ اخلاق کا نمونہ پیش کرنے سے