سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 475 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 475

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 455 لوگوں کے ساتھ شفقت، محبت اور احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات قرآنی (آل عمران 160-161) میں شوری کی اہمیت اور لوگوں سے حسن معاملہ کرنے کا مضمون بیان فرمایا ہے نیز اس سلسلہ میں کچھ ہدایات بھی دی ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُس نے اپنی خاص رحمت کا سلوک فرماتے ہوئے تیرے دل میں تمام مخلوق کے لیے نرمی اور شفقت کا خاصہ رکھ دیا ہے۔ یقینا اگر آپ کا دل سخت گیر ہوتا تو لوگ اس طرح آپ کے ارد گرد محبت و عقیدت کے ساتھ ہر گز جمع نہ ہوتے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے بھی آگاہ فرمادیا کہ آپؐ کے متبعین غلطیاں بھی کریں گے اور پھر آپ کے پاس معافی کے خواستگار ہوتے ہوئے بھی آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رحم کا سلوک فرماتے ہوئے انہیں معاف کر دینا چاہیے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں سے انتظامی معاملات میں مشورہ کرنا چاہیے۔ اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایسے لوگ جن سے ماضی میں غلطیاں ہوئیں ان کا مشورہ بالکل تسلیم ہی نہ کیا جائے یا ان پر غور ہی نہ کیا جائے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بظاہر تو یہ ہدایات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی ہیں لیکن در حقیقت یہی ہدایات خلیفہ وقت کے لئے بھی اور پھر جماعتی عہدیداران کے لئے بھی ہیں۔ اس لئے وہ تمام عہدیداران جن کے نام الیکشن میں پیش کیے گئے ہیں یا جن کی منظوری میری طرف سے آئے گی انہیں اس بات کا خاص خیال رکھنا ہو گا کہ وہ اپنے ماتحت عہدیداران اور دیگر ممبران جماعت احمدیہ سے محبت ، شفقت ، لحاظ اور احترام سے پیش آئیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ضمنی طور پر میں یہ بھی ذکر کرتا چلوں کہ ضروری نہیں کہ جن لوگوں کو اس الیکشن میں کسی خاص عہدے کے لئے سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں اُنہی کی منظوری میری طرف سے دی جائے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ میں عہدہ کی حقیقت اور فلسفہ بیان کرتے