سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 474 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 474

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 454 کا، کیونکہ ، یہ حکم ہے اس لئے اس کی رُو سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ خاص طور پر قاضیوں کو اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ جن علاقوں میں خاص طور پر ضرورتمند اور غرباء ہیں اُن کا خیال رکھا جائے اور اپنے وسائل کے مطابق اُن کی دیکھ بھال کرنا بھی متعلقہ امراء اور عہدیداران کا کام ہے۔ اس بارے میں یہ ضروری نہیں کہ درخواستیں ہی آئیں۔ خود بھی جائزے لیتے رہنا چاہیے۔ یہ امراء اور صدران کے فرائض میں داخل ہے۔ صرف چند نیکیاں بجالانا یا چند برائیوں سے رکنا، یہ تقویٰ نہیں ہے ایک بہت بڑی ذمہ داری ہر امیر کی، ہر صدر جماعت کی ، ہر عہدیدار کی تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (آل عمران : (111) ہے کہ نیکی کی ہدایت کرنا اور بدی سے روکنا۔ پس تأمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ کو ہمیشہ ہر عہدیدار کو یاد رکھنا چاہیے اور یہ اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک ہر عہد یدار خود اپنا جائزہ لیتے ہوئے اپنے قول و فعل کو ایک نہیں کرتا، اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا نہیں کرتا، تقویٰ کے اُن راستوں کی تلاش نہیں کرتا جن کی طرف ہمیں اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے۔ اور تقویٰ کے بارے میں ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ صرف چند نیکیاں بجالانا یا چند برائیوں سے رکنا، یہ تقویٰ نہیں ہے۔ بلکہ تمام قسم کی نیکیوں کو اختیار کرنا اور ہر چھوٹی سے چھوٹی برائی سے رکنا، یہ تقویٰ ہے۔ پس یہ معیار ہیں جو حاصل کر کے ہم نیکیوں کی تلقین کرنے والے اور برائیوں سے روکنے والے بن سکتے ہیں اور امانت کا حق ادا کرنے والے بن سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ افراد جماعت کو بھی ، تمام عہدیداران کو بھی، جو منتخب ہو چکے ہیں یا منتخب ہونے والے ہیں، اور منتخب ہو کر آئیں گے اور مجھے بھی اپنی امانتوں اور عہدوں کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اپریل 2013ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل 3 مئی 2013ء)