سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 473 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 473

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 453 ہے، اُس سے عزت و احترام سے ملنا چاہیے اور عزت و احترام سے بٹھانا چاہیے۔ یہ بہت ضروری چیز ہے۔ اگر دفتر میں آیا ہے تو کھڑے ہو کر ملنا چاہیے۔ یہ اخلاق منتخب عہدیداران کے لئے بھی ہیں اور مستقل جماعت کے کارکنان کے لئے بھی ضروری ہیں۔ اس سے عزت بڑھتی ہے، کم نہیں ہوتی۔ پھر عہدیداروں کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت تواضع اور عاجزی بھی ہے۔ اور یہ عاجزی ایک احمدی کو بھی، عموماً عام آدمی کو بھی اپنی فطرت کا خاصہ بنانی چاہیے۔ لیکن ایک عہدیدار کو تو خاص طور پر اپنے اندر تواضع اور عاجزی پیدا کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ولا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ( بنی اسرائیل: 38) کہ اور تم زمین میں تکبر سے مت چلو۔ ایک عام انسان کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں۔ تو جو لوگ خدا تعالیٰ کی خاطر اپنی خدمات پیش کر رہے ہوں اُن کے لئے ایک لمحہ کے لئے بھی خدا تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں ہو سکتا۔ پس اس خصوصیت کو ہمارے تمام عہدیداروں کو زیادہ سے زیادہ اپنانا چاہیے اور ہر ملنے والے سے انتہائی عاجزی سے ملنا چاہیے۔ ہر فیصلہ انصاف پر ہونا چاہیے پھر یہ بھی خاص طور پر وہ عہدیدار ، جن کے سپر د فیصلوں کا کام ہے، لوگوں کے درمیان صلح صفائی کروانے کا کام ہے، اصلاحی کمیٹیاں ہیں یا قضاء ہے ، یاد رکھیں کہ یہ جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے كر اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدة: 9)۔ انصاف کرویہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اس کو یا د رکھنا چاہیے۔ پس ہر فیصلہ انصاف پر ہونا چاہیے۔ بعض دفعہ بعض فیصلے میرے سامنے آتے ہیں، میں نے دیکھا ہے کہ گہرائی میں جا کر اُس پر غور نہیں ہوا ہوتا۔ اس طرح جن کے متعلق فیصلہ کیا گیا ہوتا ہے اُن میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ جو فیصلہ کیا گیا ہے اگر اُس کے بارے میں شریعت کا کوئی واضح حکم ہے جس کی بنیاد پر فیصلہ کیا ہے تو پھر وہ واضح طور پر لکھا جانا چاہیے کہ شریعت