سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 472 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 472

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 452 عمران:135) غصہ پر قابو ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خاص حکم دیا ہے کہ بیشک بعض دفعہ بعض حالات میں غصہ کا اظہار ہو جاتا ہے لیکن غصہ کو دبانے والے ہوں۔ جہاں جماعتی مفاد ہو گا، وہاں بعض دفعہ اصلاح کی غرض سے غصہ دکھانا بھی پڑتا ہے۔ لیکن ذرا ذراسی بات پر غصہ میں آنا اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی عزت کا خیال نہ رکھنا یہ ایک عہدیدار کے لئے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے ، نہ ہونا چاہیے۔ بلکہ ایک اچھے عہدیدار کو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو سامنے رکھنا چاہیے کہ قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرة:84) کہ لوگوں سے نرمی سے ، ملاطفت سے ، بشاشت سے ملو۔ اگر عہدیداروں کے ایسے رویے ہوں تو بعض جگہوں سے عہدیداروں کے متعلق جو شکایات ہوتی ہیں وہ خود بخود ختم ہو جائیں۔ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنا چاہیے پھر ایک عہدیدار کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ اُس کا اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ حسن سلوک ہو۔ جماعت کے عہدے کوئی دنیاوی عہدے تو نہیں ہیں کہ افسران اور ماتحت کا سلوک ہو۔ ہر شخص جو جماعت کی خدمت کرتا ہے چاہے وہ ماتحت ہو، ایک جذبے کے تحت جماعت کے کام کرتا ہے۔ پس افسران کو اور عہدیداران کو اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنا چاہیے۔ اگر غلطی ہو تو پیار سے سمجھائیں، نہ کہ دنیاوی افسروں کی طرح سختی سے باز پرس ہو۔ ہاں اگر کوئی اس قدر ڈھٹائی دکھا رہا ہے کہ جماعتی مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہے تو پھر اُس کو مناسب طریق سے جو بھی تنبیہ ہے وہ کریں یا باز نہیں آتا تو پھر اُس سے کام نہ لیں۔ بالا افسران کو اطلاع دیں۔ بیشک فارغ کر دیں۔ لیکن ایسی فضا پیدا نہیں ہونی چاہیے کہ بلاوجہ دفتروں میں یا کام کرنے والی جگہوں پر گروہ بندی کی صور تحال پیدا ہو جائے۔ عہدیدار کو تو خاص طور پر اپنے اندر تواضع اور عاجزی پیدا کرنی چاہیے عہدیداروں میں اعلیٰ اخلاق کے اوصاف میں سے مہمان کی عزت کا وصف بھی ہونا چاہیے۔ یہ بھی ایک اعلیٰ خلق ہے۔ ہر شخص جو عہدیدار کو ملنے آتا ہے، اُس کے دفتر میں آتا