سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 471
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 451 نہیں دیکھنے چاہئیں بلکہ کوشش ہو کہ کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ استفادہ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً ضیافت کا شعبہ ہے، لنگر کا شعبہ ہے یا جلسہ سالانہ کے شعبہ جات ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لنگر اب دنیا میں تقریباً ہر جگہ پھیل چکا ہے اور جلسہ سالانہ کا نظام بھی دنیا میں پھیل چکا ہے۔ ہر دو شعبوں کے نگرانوں کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اگر بجٹ میں گنجائش بھی ہو تو جائزہ لے کر کم سے کم خرچ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور یہی امانت کے حق ادا کرنے کا صحیح طریق ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مال کے آنے کی یا اُس کی فراوانی کی کوئی فکر نہیں تھی، صحیح خرچ کرنے والوں کی فکر تھی۔ پس امراء اور متعلقہ عہدیداران اس بات کا خاص خیال رکھیں۔ لغویات سے پر ہیز کریں پھر ایک عہدیدار کی ایک خصوصیت یہ ہونی چاہیے ، گو کہ ہر مومن کی یہ نشانی ہے لیکن جن کے سپر د جماعتی ذمہ داریاں کی جاتی ہیں اُن کا سب سے بڑھ کر یہ کام ہے کہ لغویات سے پر ہیز کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون:4) یعنی مومن وہ ہیں جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ اور مومنین میں سے جو بہترین ہیں اُن کا معیار تو بہت بلند ہونا چاہیے کہ وہ ہر طرح کی لغویات سے اپنے آپ کو بچائیں۔ نہ فضول گفتگو ہو ، نہ ایسی مجلسیں ہوں جن میں بیٹھ کر ہنسی ٹھٹھا کیا جا رہا ہو۔ بعض عہدیداران بھی ہوتے ہیں جو آپس میں بیٹھتے ہیں اور دوسروں کے متعلق باتیں کر رہے ہوتے ہیں ، ہنسی ٹھٹھا کیا جا رہا ہوتا ہے۔ پس ان سے بچنا چاہیے۔ اور نہ ہی ایسی مجلسوں میں عہدیداروں کو شامل ہونا چاہیے جہاں دینی روایات کا خیال نہ رکھا جا رہا ہو۔ عہدیدار ۔۔۔ غصہ کو دبانے والے ہوں ۔۔۔ عہدیدار کی خاص طور پر ایک خوبی یہ بھی ہونی چاہیے کہ كَاظِمِينَ الْغَيْظَ (آل ۔۔