سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 470
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 450 ہیں، اعتراض کرنے والے دوسرے پر تو فوراً اعتراض کر دیتے ہیں لیکن اپنے معاملات صاف نہیں ہوتے جس سے معاشرے میں فساد کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اسلام ایک امن پسند دین ہے ، ایک امن پسند مذہب ہے۔ جتنا زیادہ اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے ، اتنا ہی مسلمانوں میں بد عہدی اور فتنہ و فساد کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ اور معاشرے میں رہنے کی وجہ سے اس کا اثر ہم احمدیوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ ہر عہد کی نسبت یقینا ایک نہ ایک دن جواب طلبی ہو گی عہد صرف باہر کے کاروباری عہد نہیں ہیں، بلکہ ہر جگہ کے عہد ہیں، باہر بھی اور اندر بھی، گھریلو سطح پر بھی۔ میاں بیوی کی شادی کا بندھن ہے، یہ بھی ایک معاہدہ ہے۔ اس میں ایک دوسرے کو دھو کہ دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ جماعتی کاموں کو بڑے احسن رنگ میں انجام دیتے ہیں، کئی دفعہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، لیکن گھروں کے حقوق ادا نہیں کر رہے ہوتے۔ یہ بھی اپنے عہدوں سے روگردانی ہے ، یا اُن کی پابندی سے روگردانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ گرفت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولاً ( بنی اسرائیل:35) یعنی ہر عہد کی نسبت یقیناً ایک نہ ایک دن جواب طلبی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے نیک آدمی کی یہ نشانی بتائی ہے، صحیح من کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا (البقرہ:178) جب وہ عہد ا کریں تو اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں۔ پس ہر احمدی نے اگر اپنے نیک عہدیدار منتخب کرنے ہیں تو ہر سطح پر اپنے بھی جائزے لینے ہوں گے کہ کس حد تک وہ خود اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہیں۔ کس حد تک وہ خود اپنی امانتوں کا حق ادا کرنے والے ہیں۔ مو اگر بجٹ میں گنجائش بھی ہو تو جائزہ لے کر کم سے کم خرچ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔۔۔ پھر عہدیدار کی ایک خصوصیت یہ ہونی چاہیے کہ جماعتی اموال کو خاص طور پر بہت احتیاط سے خرچ کریں، کسی بھی صورت میں اسراف نہیں ہونا چاہیے۔ اسی لئے خاص طور پر وہ شعبے جن پر اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اور اُن کے بجٹ بھی بڑے ہیں ، اُنہیں صرف اپنے بجٹ ہی