سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 469
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 449 کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تابمقدور کار بند ہو جائے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن )210جلد 21 صفحہ 209 تا جماعت کے ہر فرد کو۔۔۔ اپنے معیاروں کو بلند کرنے کی کوشش کرنی چاہیے پس جب تک تقویٰ کے معیار اونچے نہیں ہوں گے، اُس وقت تک اپنی امانتوں اور عہدوں کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ یہ امانتیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا، خدا تعالیٰ کی بھی ہیں اور بندوں کی بھی۔ اور ایک عہدیدار خاص طور پر دونوں طرح کی امانتوں کا امین منصور ہوتا ہے اور ہے۔ پس میں پھر افرادِ جماعت کو ، جنہوں نے اپنے عہدیدار منتخب کرنے ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہوئے، اُن کے حق میں رائے دیں جو دونوں طرح کی امانتوں اور عہدوں کا حق ادا کرنے والے ہوں اور یہ اُسی وقت ہو سکتا ہے جب ہر طرح جماعت کا تقویٰ کا معیار بھی بلند ہو ، جب ہر ووٹ دینے والے کا تقویٰ کا معیار بلند ہو گا تبھی یہ حالت ہو گی۔ پس جماعت کے ہر فرد کو اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے معیاروں کو بلند کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عہدیدار جیسا کہ میں نے کہا، افرادِ جماعت نے منتخب کرنے ہیں اور افراد جماعت میں سے منتخب ہونے ہیں ، اس لئے وہ چند خوبیاں جو ہم میں سے ہر ایک میں بحیثیت مومن ہونی چاہئیں اور خاص طور پر عہدیداروں میں ہونی چاہئیں، اُن کا میں ذکر کر دیتا ہوں۔ عہدوں کی پابندی کی بات ہے تو سب سے پہلے اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اگر جماعت میں عہدوں کی پابندی کا معیار بلند ہو گا تو عہدیداروں کا عہدوں ا عہدوں کی پابندی کا معیار بھی بلند ہو گا۔ بندوں کے حقوق میں سے جن کی ادائیگی میں کمزوری ہے ، وہ اپنے معاہدوں کو پورا نہ کرنا ہے یعنی معاہدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے حقوق ادا نہیں ہوتے۔ اس کے لئے اگر اپنے پر سختی بھی برداشت کرنی پڑے تو برداشت کر لینی چاہیے۔ یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اور حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بہت سے کاروباری معاہدے ہوتے