سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 46

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 26 فکر کے ساتھ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے بچے جوانی کو پہنچ کر ہمارے ہاتھوں سے نکل رہے ہیں یا نکل گئے ہیں تو بہر حال جو وقت ہماری کمزوریوں کی وجہ سے ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا اور ہماری اولاد میں سے اگر کوئی بے دینی کی طرف چل پڑا ہے تو پیار سے محبت سے اُسے واپس لانے کی کوشش کریں۔ اور دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے اس کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ گو ایسی ایک آدھ مثال ہی ملتی ہے لیکن ہم اپنا ایک بھی بچہ کیوں ضائع ہونے دیں۔ بچوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ ہمیشہ جماعت اور خلافت سے وابستہ رہیں۔ کیونکہ اب خلافت کی وابستگی کے ساتھ ہی آپکی زندگی اور بقا ہے ویسے بھی اپنی اولاد کے راعی ہیں آپ لوگ۔ اور ہر راعی سے پوچھا جائے گا اس کی رعایا کے بارہ میں ۔ تمہارا نام انصار اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے مدد گار پھر حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں یاد رکھو تمہارا نام انصار اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے مدد گار۔ گویا تمہیں اللہ تعالیٰ کے نام کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ از لی اور ابدی ہے اس لئے تم کو بھی کوشش کرنی چاہیے کہ ابدیت کے مظہر ہو جاؤ۔ تم اپنے انصار ہونے کی علامت یعنی خلافت کو ہمیشہ ہمیش کیلئے قائم رکھتے چلے جاؤ اور کوشش کرو یہ کام نسلاً بعد نسل چلتا چلا جاوے اور اس کے دو ذریعے ہو سکتے ہیں ایک ذریعہ تو یہ ہے کہ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی جائے اور اس میں خلافت کی محبت قائم کی جائے اور اگر تم حقیقی انصار اللہ بن جاؤ اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر لو تو تمہارے اندر خلافت بھی دائمی طور پر رہے گی۔ انصار کا نام قبول کیا ہے تو صحابہ جیسی محبت بھی پیدا کریں فرمایا کہ آپ نے انصار کا نام قبول کیا ہے تو صحابہ جیسی محبت بھی پیدا کریں۔ آپ کے نام کی نسبت خدا تعالیٰ سے ۔ سے ہے اور خدا تعالیٰ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لئے تمہیں بھی چاہیے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ انصار کے نام کو ہمیشہ کے لئے قائم رکھو۔ اور ہمیشہ دین کی خدمت میں لگے رہو۔ کیونکہ اگر خلافت قائم رہے گی تو اس کو انصار کی بھی ضرورت ہو گی، خدام کی بھی ضرورت