سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 466
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 446 قائم کرتے ہوئے دینی حقوق کے ساتھ ساتھ دنیاوی حقوق کی بھی مثال قائم کرنی چاہیے۔ یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ میرا اذاتی معاملہ ہے ، میں اس میں جو مرضی کروں۔ جماعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اس لئے مجھے آزادی ہے جو چاہوں میں کروں۔ ہر عہدیدار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اُس کی ذات بھی اب ہر معاملے میں جماعتی مفادات کے تابع ہے۔ پس یہ سوچ ہے جو ہر عہدیدار کو پیدا کرنی چاہیے اور ایسی سوچ رکھنے والوں کو ہی حق رائے دینے والوں کو یا ووٹ دینے والوں کو منتخب کرنا چاہیے۔ یا دوسرے لفظوں میں جن کا تقویٰ کا معیار بلند ہو انہیں عہدیدار بنانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اگر ہمارا دعویٰ اس زمانے کے امام کو مان کر تقویٰ کے معیاروں کو بلند کرنے کا ہے، اپنے ذمہ کی گئی امانتوں کا دوسروں سے بڑھ کر حق ادا کرنے کا یہ دعویٰ ہے تو ہمیں بہت فکر سے اپنی جماعتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ هُمْ لا مُنْتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ (المؤمنون: 9) اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کا خیال رکھتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ اپنے سپرد کی گئی امانتوں کو سرسری طور پر ادا نہیں کرنا بلکہ گہرائی میں جا کر تمام باریکیوں کو سامنے رکھ کر اپنے کام سر انجام دینے ہیں۔ پس منتخب کرنے والوں کو بھی ایسے لوگوں کو منتخب کرنا چاہیے جو اپنے کاموں میں سنجیدہ ہوں اور منتخب شدہ لوگوں کو بھی اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ذمہ داریوں کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جو عہد کیا ہے سب سے زیادہ اُس کی پابندی عہدیداران کو کرنی چاہیے ، چاہے وہ کسی بھی سطح کے عہدیدار ہوں۔ عہدیداروں کو یادرکھنا چاہیے کہ اپنے تمام عہد پورے کئے بغیر کام نہیں ہو سکتا عہدے یا خدمت کرنے کی خواہش کا جذبہ تو جیسا کہ میں نے کہا بہت رکھتے ہیں حالانکہ عہدے کی خواہش تو ہونی بھی نہیں چاہیے۔ یہ تو ویسے ہی اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ اگر خدمت کا جذبہ ہے اور اس کی خواہش ہے تو پھر جو خدمت سپرد کی جائے یا کوئی عہدہ سپر د کیا جائے تو پھر خدمت کرنے والوں کو ، عہدیداروں کو یادرکھنا چاہیے کہ اپنے تمام عہد پورے کئے