سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 465 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 465

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 445 ہر عہدیدار ۔۔۔ دوسروں سے بڑھ کر دن اور رات استغفار کرنے والا ہو پس عہدے کوئی بڑائی نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ دعاؤں کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو نبھانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ سمیع ہے، وہ تمہاری دعاؤں کو سنتا ہے، خاص طور پر جب خدا تعالیٰ کے حکموں پر پورا اترنے کی دعائیں کی جائیں تو اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور شامل حال ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح رائے دینے والے پر ، ووٹ دینے والے پر گہری نظر رکھنے والا ہے ، اُسی طرح عہدیدار پر بھی اُس کی گہری نظر ہے۔ اگر اپنی ذمہ داری نہیں نبھائیں گے ، اگر عدل اور انصاف سے فیصلے نہیں کریں گے ، اگر اپنے کاموں کو اُن کا حق ادا کرتے ہوئے نہیں بجالائیں گے تو پھر خدا تعالیٰ جو ہر چیز کو دیکھ رہا ہے، وہ فرماتا ہے پھر تم پوچھے بھی جاؤ گے، تمہاری جواب طلبی ہو گی۔ پس یہ ہر اُس شخص کے لئے بہت خوف کا مقام ہے جس کے سپر د کوئی نہ کوئی خدمت کی جاتی ہے۔ لوگوں کو عہدوں کی بڑی خواہش ہوتی ہے۔ لیکن اگر اُن کو پتہ ہو کہ یہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے اور اس کا حق ادانہ کرنے پر خدا تعالیٰ کی ناراضگی بھی ہو سکتی ہے اور اُس کی گرفت بھی ہو سکتی ہے تو ہر عہدیدار سب سے بڑھ کر ، دوسروں سے بڑھ کر دن اور رات استغفار کرنے والا ہو۔ دینی حقوق کے ساتھ ساتھ دنیاوی حقوق کی بھی مثال قائم کرنی چاہیے ہر عہدیدار کو یاد رکھنا چاہیے کہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد یا عہدہ کی منظوری آجانے کے بعد وہ آزاد نہیں ہو گیا۔ بلکہ ایسے بندھن میں بندھ گیا ہے جس کو نہ نبھانے کی صورت میں یا اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں کے مطابق نہ بجالانے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لینے والا بھی ہو سکتا ہے۔ ہر عہدیدار نے ہر فردِ جماعت کا حق بھی ادا کرنا ہے اور جماعت کا مجموعی طور پر بحیثیت جماعت بھی حق ادا کرنا ہے۔ کیونکہ ہر عہدیدار کو یہ سوچنا چاہیے کہ میں ایک جماعتی عہدیدار ہوں اور کسی بھی قسم کی میری کمزوری جماعت کو متاثر کر سکتی ہے یا جماعت کے نام کو بد نام کرنے والی ہو سکتی ہے۔ اس لئے اُسے یہ حق بھی ادا کرنے والا ہونا چاہیے اور پھر اپنے نمونے