سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 467 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 467

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 447 بغیر کام نہیں ہو سکتا۔ اور عہد کس طرح پورے ہوں گے؟ اور کس معیار سے پورے ہوں گے ؟ اور کیا معیار اس کا ہونا چاہیے ؟ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” خدا تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا ہے۔ (یعنی آیت کریمہ ) وَالَّذِينَ هُمْ لا مُنْتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ۔۔۔ جو صرف اپنے نفس میں یہی کمال نہیں رکھتے جو نفس امارہ کی شہوات پر غالب آگئے ہیں اور اس کے جذبات پر اُن کو فتح عظیم حاصل ہو گئی ہے بلکہ وہ حتی الوسع خدا اور اُس کی مخلوق کی تمام امانتوں اور تمام عہدوں کے ہر ایک پہلو کا لحاظ رکھ کر تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنے کی کوشش کرتے ہیں اور جہاں تک طاقت ہے اُس راہ پر چلتے ہیں۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 207) فرمایا: لفظ راعون، جو اس آیت میں آیا ہے جس کے معنی ہیں رعایت رکھنے والے۔ یہ لفظ عرب کے محاورہ کے موافق اُس جگہ بولا جاتا ہے جہاں کوئی شخص اپنی قوت اور طاقت کے مطابق کسی امر کی باریک راہ پر چلنا اختیار کرتا ہے اور اس امر کے تمام دقائق بجالانا چاہتا ہے “۔ (یعنی باریک ترین پہلو بجالانا چاہتا ہے )۔ ” اور کوئی پہلو اُس کا چھوڑنا نہیں چاہتا۔ پس اس آیت کا حاصل مطلب یہ ہوا کہ وہ ہوا کہ وہ مومن جو ۔۔۔۔ حتی الوسع اپنی موجودہ طاقت کے موافق تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارتے ہیں اور کوئی پہلو تقویٰ کا جو امانتوں یا عہد کے متعلق ہے، خالی چھوڑنا نہیں چاہتے اور سب کی رعایت رکھنا اُن کا ملحوظ نظر ہوتا ہے اور اس بات پر خوش نہیں ہوتے کہ موٹے طور پر اپنے تئیں امین اور صادق العہد قرار دے دیں“۔ (اپنے آپ کو امین سمجھیں یا وعدے پورے کرنے والا قرار دے دیں بلکہ ڈرتے رہتے ہیں کہ در پر دہ اُن سے کوئی خیانت ظہور پذیر نہ ہو۔ پس طاقت کے موافق اپنے تمام معاملات میں توجہ سے غور کرتے رہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ اندرونی طور پر اُن میں کوئی نقص اور خرابی ہو اور اسی رعایت کا نام دوسرے لفظوں میں تقویٰ ہے۔“ (ضمیمہ براہا براہین احمدیہ حصہ : پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 207-208) پھر آپ فرماتے ہیں: ”خلاصہ مطلب یہ کہ وہ مومن جو ۔۔۔ اپنے معاملات میں خواہ خدا