سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 464
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 444 ہے اور اسلام میں ناپسند ہے۔ لیکن اگر کوئی اپنے کسی دوست یا عزیز کو کوئی کام سپر د کرتا ہے اور اُس کی بظاہر اس کام کے لئے لیاقت بھی ہے تو پھر بعض لوگ جن کو اعتراض کرنے کی عادت ہے وہ بلا وجہ یہ اعتراض کر دیتے ہیں کہ اس نے اپنے قریبی کو فلاں عہدہ دے دیا۔ اُن کو یہ اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ کسی عہدیدار کا، کسی امیر کا عزیز ہونا یا قریبی ہونا کوئی گناہ نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے اُس شخص کو خدمت سے محروم کر دیا جائے۔ یہ بات میں نے اس لئے واضح کر دی کہ بعض لوگوں کی طرف سے اس طرح کے اعتراض آجاتے ہیں۔ جب انصاف قائم نہ ہو تو پھر کام میں برکت نہیں پڑتی پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عہدیداروں کو فرمایا ہے کہ ان تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ کہ انصاف کے ساتھ اپنے عہدوں اور تفویض کردہ کاموں کو سر انجام دو۔ اگر عدل نہیں ہو گا، انصاف نہیں ہو گا، خویش پروری ہو گی یا قرابت داری کا لحاظ رکھا جائے گا یا ایک کارکن سے ضرورت سے زیادہ باز پرس اور دوسرے سے بلا ضرورت صرفِ نظر ہو گی تو انصاف قائم نہیں رہ سکتا۔ اور جب انصاف قائم نہ ہو تو پھر کام میں برکت نہیں پڑتی ، پھر اچھے نتائج کے بجائے بد نتائج نکلتے ہیں۔ اسی طرح صرف کام کرنے والوں کا ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ ہر فردِ جماعت کے ساتھ انصاف پر مبنی تعلقات ہونے چاہئیں اور فیصلے اُس کے مطابق ہونے چاہئیں۔ یہ نہیں کہ فلاں شخص فلاں کا دوست ہے یا فلاں کا عزیز ہے یا فلاں خاندان کا ہے تو اُس سے اور سلوک اور دوسرے سے اور سلوک۔ اگر یہ باتیں ہوں تو یہ چیزیں پھر جماعت میں بے چینی پیدا کرتی ہیں۔ اسی طرح جب خلیفہ وقت کی طرف سے رپورٹ کے لئے کہا جائے تو پھر رپورٹ بھی صحیح ہونی چاہیے کہ حکم تو تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ کا ہے۔ لیکن خلیفہ وقت کو اگر غلط رپورٹ ہو گی تو خلیفہ وقت سے بھی غلط فیصلہ ہو جائے گا اور غلط فیصلہ کروا کر اُسے بھی اپنے ساتھ گنہگار بنا رہے ہوں گے اور خود تو خیر بن ہی رہے ہوں گے۔ پس ہمیشہ جماعتی کاموں میں ان چیزوں کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ ہر کام ، ہر خدمت جو دی جائے ، اُس کو انتہائی سوچ بچار کر اور ایمانداری سے ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔