سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 463
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول کثرت رائے کا عموماً احترام کرنا چاہیے 443 پس ہر ووٹ دینے والا اپنے ووٹ کی، اپنے رائے دہی کے حق کی اہمیت کو سمجھے۔ ہر قسم کے ذاتی رجحانات یا ذاتی پسندوں اور ذاتی تعلقات سے بالا ہو کر جس کام کے لئے کسی کو منتخب کرنا چاہتے ہیں، اُس کے حق میں اپنی رائے دیں۔ پرانے احمدی تو جانتے ہیں، نئے آنے والوں پر بھی واضح ہونا چاہیے ، نوجوانوں پر بھی واضح ہونا چاہیے کہ انتخابات میں رائے دی جاتی ہے۔ حتمی فیصلہ خلیفہ وقت کی طرف سے ہوتا ہے۔ بعض دفعہ کسی کے حق میں کثرت کے باوجود بعض وجوہات کی بنا پر دوسرے کو (عہدیدار) بنا دیا جاتا ہے۔ یہ بھی واضح ہو کہ بعض مقامی عہدیداروں کے انتخابات کی حتمی منظوری اگر ملکی امیر دیتا ہے تو اُسے قواعد اس کی اجازت دیتے ہیں، کثرتِ رائے سے اختلاف کا وہ حق رکھتا ہے لیکن امراء کو کثرتِ رائے کا عموماً احترام کرنا چاہیے اور یہ بات نوٹ کر لیں، خاص طور پر انگلستان اور یورپ کے ممالک اور امریکہ ، کینیڈا، آسٹریلیا کے ممالک کہ مقامی انتخابات میں قواعد نیشنل امیر کو اجازت دیتے ہیں کہ اگر وہ تبدیلی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ لیکن جن ملکوں کے میں نے نام لئے ہیں، اِس دفعہ کے الیکشن کیلئے اگر کوئی تبدیلی کرنی ہو گی تو اس کے لئے بھی مجھ سے پہلے پوچھنا ہو گا، یہاں سے منظوری لیں گے ، امراء خود تبدیلی نہیں کریں گے۔ باقی پاکستان یا بھارت یا جو دیگر ممالک ہیں، وہ حسب قواعد مقامی انتخابات کے لئے منظوری کی کارروائی کر سکتے ہیں اور ہر ملک کی جو نیشنل عاملہ ہے اور بعض اور عہدیداران جو ہیں ، اُن کی بہر حال یہیں مرکز سے منظوری لی جاتی ہے ، خلیفہ وقت سے منظوری لی جاتی ہے۔ اس آیت میں تُؤَدُّوا الْآمَنَتِ إِلى أَهْلِهَا ( النساء 59:) کہا گیا ہے۔ یہ عہدیداران کے لئے بھی ہے۔ بعض عہدے یا بعض کام ایسے ہیں جو بغیر انتخاب کے نامز د کر کے سپر د کئے جاتے ہیں۔ مثلاً سیکرٹری رشتہ ناطہ ہے ، اس کا عہدہ ہے یا خدمت ہے یا بعض شعبوں میں بعض لوگوں کو کام تفویض کئے جاتے ہیں تو امیر جماعت یا صدر جماعت یا متعلقہ سیکرٹری اگر کسی کو ایسے کام دیتے ہیں تو صرف ذاتی پسند اور تعلق پر نہ دیا کریں بلکہ افرادِ جماعت کا تفصیلی جائزہ لیں اور یہ جائزہ لے کر پھر اُن میں سے جو بہترین نظر آئے اُسے کام سپرد کرنا چاہیے ورنہ یہ خویش پروری