سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 462 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 462

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 442 تمہاری نظر میں جو بہترین شخص ہے اُس کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرو۔ ووٹ دینے سے پہلے یہ جائزہ لو کہ آیا یہ اس عہدہ کا اہل بھی ہے کہ نہیں۔ جس کے حق میں تم ووٹ دے رہے ہو یا ووٹ دینا چاہتے ہو وہ اس عہدہ کا حق ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے یا نہیں ؟ جتنی بڑی ذمہ داری کسی کے سپرد کرنے کے لئے آپ خلیفہ وقت کو مشورہ دینے کے لئے جمع ہوئے ہیں، اُتنی زیادہ سوچ بچار اور دعا کی ضرورت ہے۔ یہ نہیں کہ یہ شخص مجھے پسند ہے تو اُسے ووٹ دیا جائے۔ یا فلاں میرا عزیز ہے تو اُسے ووٹ دیا جائے۔ یا فلاں میرا برادری میں سے ہے، شیخ ہے، جٹ ہے، چوہدری ہے، سید ہے، پٹھان ہے، راجپوت ہے، اس لئے اُس کو ووٹ دیا جائے۔ کوئی ذات پات عہدیدار منتخب کرنے کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ جواب طلبی صرف عہدیدار کی نہیں کرتا کہ کیوں تم نے صحیح کام نہیں کیا۔ بلکہ ووٹ دینے والے بھی پوچھے جائیں گے کہ کیوں تم نے رائے دہی کا اپنا حق صحیح طور پر استعمال نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کے آخر میں یہ فرمایا کر ان الله كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا کہ اللہ تعالیٰ بہت سننے والا اور گہری نظر رکھنے والا ہے۔ یہ ووٹ ڈالنے والوں کے لئے بھی ہے کہ اگر تمہیں کسی کے بارے میں صحیح معلومات نہیں تو خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ اے خدا! تیری نظر میں جو بہترین ہے، اُسے ووٹ ڈالنے کی مجھے توفیق عطا فرما۔ اور نیک نیتی سے کی گئی اس دعا کو خدا تعالیٰ جو سمیع و بصیر ہے ، وہ سنتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بصیر بھی ہے، اُس کی تمہارے عملوں پر گہری نظر ہے، خدا تعالیٰ کو دھو کہ نہیں دیا جا سکتا۔ وہ دلوں کی پاتال تک سے واقف ہے۔ پس جب مومنین کی جماعت خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہوئے عہدیدار منتخب کرتی ہے تو پھر اللہ تعالی مومنین کا مدد گار بھی ہو جاتا ہے۔ جماعتی نظام میں تو ہماری یہ روایت ہے کہ ہر کام سے پہلے ہم دعا کرتے ہیں، دعا سے کام شروع کرتے ہیں۔ انتخابات سے پہلے بھی دعا کروائی جاتی ہے۔ اگر خالص ہو کر اللہ تعالیٰ سے رہنمائی لیتے ہوئے انتخابات کی کارروائی کی جائے تو اللہ تعالیٰ پھر اپنے فضلوں اور برکتوں سے نوازتا ہے۔