سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 45
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 25 وقت قو میں بھی مرنے لگ جاتی ہیں۔ پس آپ لوگوں کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور اپنی اولادوں کو بھی ذکر الہی کی تلقین کرتے رہنا چاہیے۔ جماعت کی دماغی نمائندگی انصار اللہ کرتے ہیں پھر تہجد اور ذکر الہی اور مساجد کی آبادی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت کی دماغی نمائندگی انصار اللہ کرتے ہیں۔ جب کسی قوم کے دماغ اور دل اور ہاتھ ٹھیک ہوں تو وہ قوم بھی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ پس میں پہلے تو انصار کو یہ توجہ دلاتا ہوں ان میں سے وہ ہیں جو صحابی ہیں یا کسی صحابی کے بیٹے ہیں ( اور اس وقت یہاں کافی صحابہ کی اولاد میں سے بھی ہیں ) یا کسی صحابی کے شاگر د ہیں۔ اس لئے جماعت میں نمازوں ، دعاؤں اور تعلق باللہ کو قائم رکھنا اُن کا کام ہے۔ اُن کو تہجد ، ذکر الہی اور مساجد کی آبادی میں اتنا حصہ لینا چاہیے کہ نوجوان اُن کو دیکھ کر خود ہی ان باتوں کی طرف مائل ہو جائیں۔ اصل میں تو جوانی کی عمر ہی وہ زمانہ ہے جس میں تہجد ، دعا اور ذکر الہی کی طاقت بھی ہوتی ہے اور مزہ بھی آتا ہے۔ لیکن عام جوانی کے زمانے میں موت اور عاقبت کا خیال کم ہوتا ہے اس وجہ سے نوجوان غافل ہو جاتے ہیں لیکن نوجوانی میں اگر کسی کو یہ توفیق مل جائے تو وہ بہت ہی مبارک وجود ہوتا ہے۔ پس ایک طرف تو میں انصار الله کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے نمونے سے اپنے بچوں اپنے ہمسایوں کے بچوں اور اپنے دوستوں کے بچوں کو زندہ کریں اور دوسری طرف میں خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اتنا اعلیٰ نمونہ دکھائیں کہ نسلاً بعد نسل اسلام کی روح زندہ رہے۔ پس آپ نے نَحْنُ أَنصَارُ اللهِ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے جو عہد باندھا ہے اس کو پورا کرنے کے لئے اپنی تمام استعدادوں کو بروئے کار لائیں۔ تعلق باللہ کو بڑھائیں جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ تعلق باللہ کو بڑھائیں۔ دعاؤں اور نمازوں کی طرف زیادہ توجہ دیں۔ تہجد میں بھی باقاعدگی اختیار کریں۔ اپنی راتوں کو زندہ کریں۔ اپنے بچوں اپنے احمدی ماحول کے بچوں کی تربیت کی فکر اپنے اندر پیدا کریں۔ بعض والدین بڑی پریشانی اور