سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 452
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 432 جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے ۔۔۔ آپ نے اس کو اپنی تجنید میں شامل دو کرنا ہے نیشنل جنرل سیکرٹری صاحب، ذیلی تنظیمیں جس میں خدام الاحمدیہ ، انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ شامل ہیں، ان سب کا فرض ہے کہ کوئی بھی شخص جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے خواہ وہ چندہ دیتا ہے یا نہیں، نمازیں پڑھتا ہے یا نہیں آپ نے اس کو اپنی تجنید میں شامل کرنا ہے۔ اور اُس کے بعد ذیلی تنظیموں کا بھی کام ہے اور سیکر ٹری تربیت کا بھی کام ہے کہ اُن کی تربیت کر کے اُن کو قریب لائیں۔ جب تک وہ خود انکار کر کے اپنے آپ کو جماعت سے باہر نہیں نکالتے تب تک آپ نے اس کو تجنید میں سے نہیں نکالنا۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ سیکرٹری مال، یا قائد مال کی یا پھر مہتم مال کی اپنی جو تجنید ہے یا جو اس کے پاس انفارمیشن ہیں وہ جماعتی تجنید کے data کے ساتھ tally کر رہی ہو۔ یہ دونوں بہر حال مختلف ہوں گے اور ہونے چاہئیں کیونکہ تجنید ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے اور چندہ دہندگان کی تعداد کم ہوتی ہے۔ اگر یہ دونوں ایک جیسے ہیں تو پھر آپ کا ریکارڈ درست نہیں ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ انصار الله ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنے تجنید کے شعبہ کو فعال کریں۔ اسی طرح جنرل سیکر ٹری صاحب تمام جماعتوں میں اور حلقوں میں اپنے متعلقہ سیکرٹری کو کہیں کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ مختلف جگہوں پر جو شخص بھی عید پڑھنے آتا ہے، کمزور سے کمزور ایمان والا بھی سال میں کم از کم عید تو پڑھ لیتا ہے۔ اگر وہ جماعت احمدیہ کی مسجد میں عید پڑھنے آتا ہے اور نیا چہرہ ہے تو اس سے پوچھیں کہ کیا آپ احمد ی ہیں ؟ اگر وہ کہتا ہے کہ وہ احمدی ہے تو پھر اسے کہیں کہ ہم نے تجنید میں شامل کر دیا ہے۔ آپ اپنا پتہ اور دیگر معلومات دے دیں، چندہ دینا یا نہ دینا علیحدہ بات ہے، لیکن یہ تو بتاؤ کہ اگر تم سے لیکن یہ تو بتاؤ کہ اگر تم سے رابطہ کرنا ہو تو کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ اس طرح تجنید میں شامل کر کے پھر اُسے جماعت کے قریب لائیں۔ عہدیداران اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تمام عہدیداران کو مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: