سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 44
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 24 بڑی ذمہ داری ہے۔ وہ اپنی عمر کے آخری حصے میں سے گزر رہے ہیں اور یہ آخری حصہ وہ ہوتا ہے جب انسان دنیا کو چھوڑ کر اگلے جہان جانے کی فکر میں ہوتا ہے اور جب کوئی انسان اگلے جہان جارہا ہو تو اُسے اس وقت اپنے حساب کی صفائی کا بہت زیادہ خیال ہوتا ہے اور وہ ڈرتا ہے کہ کہیں وہ ایسی حالت میں اس دنیا سے کوچ نہ کر جائے کہ اس کا حساب گندا ہو، اس کے اعمال خراب ہوں اور اس کے پاس وہ زادِ راہ نہ ہو جو اگلے جہان میں کام آنے والا ہے۔ جب احمدیت کی غرض یہی ہے کہ بندہ اور خدا کا تعلق درست ہو جائے تو ایسی عمر میں اور عمر کے ایک ایسے حصہ میں اس کا جس قدر احساس ایک مومن کو ہونا چاہیے وہ کسی شخص سے مخفی نہیں ہو سکتا۔ پھر انصار کو اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ آپ کا نام انصار اللہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ جہاں تک ہو سکے آپ دین کی خدمت کی طرف توجہ کریں اور یہ تو مالی لحاظ سے بھی ہوتی ہے اور دینی لحاظ سے بھی ہوتی ہے۔ دینی لحاظ سے بھی آپ لوگوں کا فرض ہے کہ عبادت میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں۔ اور دین کا چرچازیادہ سے زیادہ کریں۔ تاکہ آپ کو دیکھ کر آپ کی اولادوں میں بھی نیکی پیدا ہو جائے۔ دین کا چر چا یہی ہے کہ تبلیغ کی طرف زیادہ توجہ دیں۔ خود بھی نماز اور ذکر الہی کی طرف توجہ کریں اور اپنی اولادوں کو بھی نماز اور ذکر الہی کی طرف توجہ دلاتے رہیں حضرت ابراہیم کی قرآن کریم میں یہی خوبی بیان کی گئی ہے کہ آپ اپنے اہل و عیال کو ہمیشہ نماز وغیرہ کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ یہی اصل خدمت مت آپ لوگوں کی ہے۔ آپ خود بھی نماز اور ذکر الہی کی طرف توجہ کریں اور اپنی اولادوں کو بھی نماز اور ذکر الہی کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔ جب تک جماعت میں یہ روح پیدار ہے اور لوگوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فرشتوں کا تعلق قائم رہے اور اپنے اپنے درجہ کے مطابق کلام الہی ان پر نازل ہو تا رہے اسی وقت تک جماعت زندہ رہتی ہے کیونکہ اس میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی آواز سُن کر اُسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور جب یہ چیز مٹ جاتی ہے اور لوگ خدا تعالیٰ سے بے تعلق ہو جاتے ہیں تو اس