سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 448
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 428 جن کو قرآن کریم آتا ہے وہ وقف عارضی کریں اور اپنی جماعتوں کو قرآن کریم پڑھایا کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے صدر صاحب انصار اللہ سے دریافت فرمایا کہ ”انصار اللہ کتنا تعاون کرتے ہیں ؟ انصار اللہ تو سب سے زیادہ کمائی کرنے والے ہیں۔ صدر انصار اللہ نے بتایا کہ ان کی طرف سے پچھلے سال ساڑھے چھ لاکھ کی وصولی ہوئی تھی۔ اس دفعہ ہمارا پلان ہے کہ ایک ملین یورو جمع کروائیں گے۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک ملین یوروز کم از کم ٹارگٹ ہے۔ آپ اس کو بڑھا بھی سکتے ہیں۔ آپ کی ایک percentage بوڑھوں کی ایسی ہے جو کام نہیں کرتی اور سوشل الاؤنس لیتی ہے اور خرچ کچھ نہیں کرتے، اپنے پیسے بچاتے ہیں۔ سوشل الاؤنس لیتے ہیں اور خرچہ کوئی نہیں سوائے اس کے کہ کوئی زبر دستی ناخلف بچے چھین لیں۔ اس کے علاوہ کمانے والے اور کام کرنے والے انصار کی بھی اچھی خاصی percentage ہے جو معیاری چندہ ادا کر سکتی ہے۔ اس کیلئے ایک سکیم بنائیں کہ کس طرح آپ مساجد کی تعمیر کیلئے فنڈز generate کر سکتے ہیں۔ خدام الاحمدیہ اور لجنہ کو بھی چاہیے کہ اپنی سکیم بنائیں، سٹال لگائیں یا پھر کچھ اور پروگرام رکھیں۔ ایسے انصار جو فارغ ہیں ان کو کہیں کہ جا کر مارکیٹ میں بیٹھیں، ہفتہ میں دو دن سٹال لگائیں ، ان کی انکم ہو اور وہ جمع کروائیں۔ آپ تجربہ کر کے دیکھیں اور ان سٹالوں سے جو انکم ہو وہ مسجد فنڈ میں جائے۔ چاہے وہ تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔ ایک احساس تو ہو گا کہ ہم حصہ ڈال رہے ہیں۔ صدر صاحب انصار اللہ نے عرض کیا کہ ایک بات سامنے آئی ہے کہ جن جماعتوں میں مساجد بن جاتی ہیں ان کی طرف سے چندہ میں کمی آجاتی ہے۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ توجہ دلائیں، احساس پیدا کریں، دو چار مقرر ایسے پیدا کریں جو تقریر کر سکیں، ان جماعتوں میں ان مقررین کو بھیجا کریں۔ حضور انور ایدہ اللہ