سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 443 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 443

423 سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول طرف شعبہ تربیت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تقویٰ کا معیار بلند ہونا چاہیے۔ کرتے ۔۔۔ قائد تجنید سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ کیا تجنید گھر گھر جا کر تے ہیں یا زعماء بنا کر بھیجوا دیتے ہیں۔ اب جو نئے اس اسائیکلم والے آئے ہیں ان ان کو شامل کریں۔ تجنید کا چندے کی ادائیگی سے تعلق نہیں۔ جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے اس کو شامل کریں۔ جب تک آپ شامل نہیں کریں گے اس کی تربیت نہیں کر سکتے۔ پہلے اس کو شامل کریں، پھر اس کو اپنے قریب لائیں اور باقاعدہ اپنے نظام کا حصہ بنائیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ اپنی تجنید نیشنل سیکرٹری مال کی رپورٹ کے مطابق نہیں بنا سکتے کہ اتنے انصار چندہ دیتے ہیں لہذا وہی ہماری تجنید ہے جو چندہ دینے والوں کی تعداد ہے۔ اگر یہ دونوں برابر ہو جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ تجنید غلط ہے یا پھر تقویٰ کا معیار سو فیصد ہو گیا ہے۔ اس لئے گراس روٹ لیول پر جا کر اپنی تجنید مکمل کریں۔ بہت سارے آپ کو ایسے انصار بھی ملیں گے جو تجنید میں شامل نہیں ہیں اور چندہ کے نظام میں بھی شامل نہیں ہیں۔ ۔۔۔ قائد ایثار نے بتایا کہ ہم و قار عمل کرواتے رہتے ہیں۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انصار بھی charity walk کریں۔ برطانیہ میں انصار ، خدام دونوں اپنی اپنی کرتے ہیں۔ یہاں کے انصار ، خدام دونوں علیحدہ علیحدہ وقت میں علیحدہ علاقوں میں کر سکتے ہیں۔ مثلاً خدام فرینکفرٹ میں اور انصار ہیمبرگ (Hamburg) میں کر سکتے ہیں۔ فرمایا : اگر بڑی عمر کے لوگ charity walk کریں تو اس کا بہت اچھا اثر ہو گا۔ ان کو jackets دیں اور jackets کے اوپر چیریٹی واک کالو گو ہو ۔ اسی (80) سال کی عمر کے بزرگ اگر واک کریں تو اس کا بہت اچھا اثر ہو گا۔ فرمایا: خدام اور انصار نے اپنی اپنی charity walk کے لئے علیحدہ علیحدہ جگہ کا انتخاب کرنا ہے۔ برلن (Berlin) میں کر سکتے ہیں۔ دوسرے چھوٹے چھوٹے شہروں میں کر سکتے ہیں اور جو آمد ہے اس کا 80 فیصد لو کل چیریٹیز کو دیں اور باقی بیس فیصد بے شک ہیومینٹی فرسٹ کو دے دیں۔ )Humanity First(