سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 442
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 422 مجلس عاملہ انصار الله جرمنی کو زریں ہدایات حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے دریافت فرمانے پر قائد عمومی نے بتایا کہ جن مجالس سے رپورٹس موصول نہیں ہو تیں ان کو یاد دہانی کرواتے ہیں ، خط لکھتے ہیں، ناظم علاقہ سے رابطہ کر کے پتہ کرتے ہیں اور فون پر بھی یاد دہانی کرواتے ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی کہ ان مجالس کو بار بار یاد دہانی کروائیں جو اپنی رپورٹس نہیں بھجواتیں۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ ہر مجلس کی رپورٹس پر قائدین اپنے اپنے شعبہ کی کار کردگی پر تبصرہ کر کے اس مجلس کو بھجوائیں، اس طرح مجلس کو ہر رپورٹ کا جواب دیا جانا چاہیے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے دریافت فرمانے پر قائد تربیت نے بتایا کہ تمام مجالس میں انصار اللہ کی مجالس عاملہ کے ممبر ان کی تعداد 1903 ہے۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر مجالس عاملہ کے تمام ممبران نماز ادا کرنے والے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ عاملہ کے علاوہ باقی دو ہزار میں سے چھ صد با قاعدہ نمازیں پڑھنے والے ہیں۔ اگر دوسروں میں سے زیادہ پڑھنے والے ہیں تو پھر عاملہ میں سے پڑھنے والے کم ہیں۔ آپ کو یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ جو کمزور انصار ہیں ان کو توجہ دلاتے رہیں۔ اور رابطے رکھیں۔ جو بوڑھے ہو رہے ہیں ان کو یہ بھی بتائیں کہ پتہ نہیں کب موت آجانی ہے ، زندگی کم ہو رہی ہے ، خد از یادہ یاد آنا چاہیے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خطبات سننے کے بعد نمازوں کی حاضری کتنی بڑھی ہے۔ یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ تمام مجالس اپنی اپنی جگہ اس کا جائزہ لیں۔ صرف جائزہ ہی نہیں لینا بلکہ عملی طور پر کام کرنا ہے اور خطبات سننے والوں کی تعداد بھی بڑھنی چاہیے۔ اور نمازوں میں حاضری بھی بڑھنی چاہیے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تربیت کے کام کی طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ اجلاسات میں جھگڑا ہو جاتا ہے یا کسی نے کسی کو گالی دے دی۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ یہ تربیت کی کمی ہے۔ اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح انتخابات میں تقویٰ سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی عہدیدار کے حق میں جانبداری نہیں ہونی چاہیے۔ ان سب چیزوں کی