سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 43

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 23 ہو سکتیں کیونکہ اکیلا انسان سارے کام نہیں کر سکتا۔ اس لئے تمام وہ لوگ جو ایک مقصد کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں، ایک گروہ کی شکل میں ہیں، ایک جماعت ہیں ایک ہو کر آپس کے تعاون سے کام کریں گے تو تمام امور خوش اسلوبی سے طے پائیں گے اور کامیابیاں تمہارے قدم چومیں گی۔ کیونکہ جس قدر بڑا کام ہو، جتنا بڑا مقصد ہو اس کے نتائج تم بغیر اکٹھے ہوئے، بغیر ایک ٹیم ورک کے اور ایک دوسرے کی مدد کے حاصل ہی نہیں کر سکتے۔ فرمایا کہ یہاں تک کہ انبیاء بھی جن میں برداشت بھی ہوتی اور انہوں نے مجاہدات بھی کئے ہوتے ہیں ان کا تو کل اللہ تعالیٰ کی ذات پر بہت بڑھا ہوا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اُن کو اس کام کے لئے مامور کر رہا ہو تا، مقرر فرما رہا ہوتا ہے پھر بھی اِن کو ظاہری اسباب کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو اس لئے ان کو کہنا پڑتا ہے کہ کون اللہ تعالیٰ کی طرف دیئے گئے ان کاموں میں میرے مدد گار ہوں گے اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قانون شریعت میں قانون قدرت کے مطابق ہی نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کا حکم فرمایا ہے۔ پھر آپ نصیحت فرماتے ہیں جسے خاص طور پر انصار کی عمر کے لوگوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ کیونکہ زندگی کا ایک بڑا حصہ گزر چکا ہے اس لئے اب بہت زیادہ فکر کی ضرورت ہے، کوئی پتہ نہیں کس وقت بلاوا آجائے۔ آپؐ فرماتے ہیں ایک ذرہ بدی کا بھی قابلِ پاداش ہے۔ اگر چھوٹی سے چھوٹی بدی بھی تم کرتے ہو تو اُس کی بھی سزا اُس پر مل سکتی ہے۔ وقت تھوڑا ہے اور کار عمل نا پیدا۔ بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہے اور کوئی پتہ نہیں عمر کتنی ہے اور کیا کام کرنے ہیں۔ تیز قدم اٹھاؤ کہ شام نزدیک ہے جو کچھ پیش کرنا ہے وہ بار بار دیکھ لو ایسا نہ ہو کہ کچھ رہ جائے اور زیاں کاری کا موجب ہو۔ یا سب گندی اور کھوٹی متاع ہو جو شاہی دربار میں پیش کرنے کے لائق نہ ہو یعنی سب کچھ ضائع نہ ہو جائے اور یہ جو تم پیش کر رہے ہو جو ہمارے اعمال ہیں یہ ایسے نہ ہوں کہ وہ اس قابل ہی نہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں پیش کئے جاسکیں۔ جہاں تک ہو سکے آپ دین کی خدمت کی طرف توجہ کریں حضرت مصلح موعود جنہوں ۔ موعود جنہوں نے یہ تنظیم قائم فرمائی، فرماتے ہیں کہ انصار اللہ پر بہت