سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 439 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 439

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 419 تو یہ چند واقعات جو میں نے آپ کے سامنے پیش کئے ہیں، یہ جہاں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق ہونے پر یقین کامل پیدا کرتے ہیں ، وہاں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تسبیح ، تحمید اور استغفار کی طرف بھی زیادہ سے زیادہ توجہ پھیرنے والے ہونے چاہئیں۔ یہ سن کر صرف الحمد لله اور ماشاء اللہ پڑھنا کافی نہیں ہو گا۔ یا صرف عارضی طور پر محظوظ ہونا ہی کافی نہیں ہو گا۔ جہاں ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اُس کی تسبیح کرتے ہوئے ، اُس کی حمد کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے جذب کرنے والے ہوں اور ایمان میں ترقی کرنے والے ہوں، وہاں ان نئے آنے والوں کے لئے نمونہ قائم کرنے والے بھی بنیں۔ جیسا کہ واقعات سے ظاہر ہے بیشک بہت سے ایسے ہیں جن کی رہنمائی اللہ تعالیٰ نے فرمائی اور اُن کے ایمانوں کو مضبوطی بخشی لیکن لاکھوں آنے والوں میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جو علمی دلیلوں اور زمانے کے حالات دیکھ کر ایک مصلح کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے احمدی ہوئے ہیں یا احمدیت میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہمارے نمونے بھی دیکھنے ہیں جو پہلے احمدی ہیں۔ پس آپ جو انصار اللہ کہلاتے ہیں حقیقی رنگ میں اپنی حالتوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے انصار اللہ بنیں اور بننے کی کوشش کریں، اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر اُس کی حمد کرتے ہوئے مزید شکر گزار بنیں، استغفار کرتے ہوئے اپنے ایمانوں کو مضبوط کریں اور نئے آنے والوں کے لئے اور اسی طرح اپنے لئے بھی مضبوطی ایمان اور ہر قسم کے شرور سے بچنے کی دعا کریں۔ اور یہاں میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ انصار کی عمر کو پہنچ کر عاقبت کی زیادہ فکر ہونی چاہیے لیکن افسوس ہے کہ بعض ایسے بھی ہیں جو بجائے اس فکر کے معاشرے میں بے سکونی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ اُن کے گھروں میں بھی بے سکونیاں ہیں اور گھروں سے باہر معاشرے میں بھی جھگڑوں کی وجہ سے بے سکونیاں پید اہو رہی ہیں۔ پس اس طرف بھی ایسے لوگوں کو توجہ دینی چاہیے ۔ جب بچے جو ان ہو جائیں یا جوانی کی عمر میں قدم رکھ رہے ہوں تو اُن کے لئے ہمیں، انصار کی عمر کو پہنچے ہوئے لوگوں کو تو نمونہ بننا چاہیے۔ اُن کے لئے بھی استغفار کرنی چاہیے تا کہ مسیح