سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 438
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 418 دیکھ رہا ہوتا ہے اور سیر اب ہوتا ہے حتی کہ میری آنکھیں آنسوؤں سے امڈ آتی ہیں اور وہ الفاظ میرے نفس، روح، عقل اور دل پر گہرا اثر کرتے ہیں اور میرے جسم کے ہر ذرے میں رچ بس جاتے ہیں۔ جب میں بیدار ہوتا ہوں تو انہیں یاد کر کے لکھنا چاہتا ہوں ، جو یہ الفاظ تھے۔ أَثَرْتُ الْجَمَالَ عَلَى الْجِمَالِ انْتَ رُوحِي وَرَاحَتِي تَعَالَ حَبِيْبِي یہ اس پیارے شخص کے لمبے قصیدے سے چند جملے مجھے یاد رہے۔ مجھے خیال گزرا کہ شاید وہ بزرگ حضرت علی ہیں۔ پھر خیال آیا کہ جو پگڑی اس بزرگ نے پہنی ہوئی تھی وہ غیر معروف تھی اور پگڑی کے اوپر والا طرہ غیر معروف تھا۔ یعنی اس کی گردن دائیں طرف کو جھکی ہوئی تھی اور اُن کے الفاظ بہت خوبصورت اور اس طرح محبت سے معمور تھے کہ میں کبھی اُن کو بھلا نہیں سکتا۔ بہر حال اس خواب کے قریباً ایک ہفتے کے بعد میں ایک دن ٹی وی پر مختلف چینل تلاش کر رہا تھا کہ اچانک آٹو میٹک سرچ پر لگا کر نئے چینل کی تلاش کی تو اچانک مجھے ٹی وی سے آواز آئی کہ لَقَدْ أُرْسِلْتُ مِنْ رَبِّ كَرِيمٍ رَحِيمٍ عِنْدَ طُوْفَانِ الضَّلَالِ (یعنی میں رب کریم ورحیم کی طرف سے ضلالت کے اس طوفان کے زمانے میں بھیجا گیا ہوں)۔ اس پر مجھے بڑا جھٹکا لگا اور میں جلدی سے ٹی وی کی طرف لپکا اور ایک چینل پر ایک شخص کی تصویر دیکھی جس کے نیچے لکھا تھا الْإِمَامِ الْمَهْدِي وَالمَسِيحِ الْمَوْعُود اور مندرجہ بالا الفاظ پڑھے جارہے تھے۔ یہ دیکھ کر میں اپنے جذبات پر کنٹرول کھو بیٹھا اور اونچی آواز سے رونے لگا۔ خدا کی قسم! میں ہفتہ بھر رو تار ہا اور جب بھی وہ تصویر ٹی وی پر آتی یا وہ اشعار سنتا تو اپنے گزشتہ گناہوں کی وجہ سے سر پیٹنے لگتا۔ اب دن رات میر اشغل ایم ٹی اے کا دیکھنا ہو گیا جیسے کسی کو فائنل میچ کا انتظار ہوتا ہے، اور رونے کے آثار میرے منہ پر واضح ہوتے۔ حتی کہ بعض لوگ مجھ سے پوچھنے لگتے کہ کیا تم رو کر آئے ہو ؟ انہوں نے مجھے لکھا کہ کئی دفعہ خواب میں میں نے آپ کو بھی دیکھا، تو بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر اُس کو نظر آئی۔