سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 437
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 417 میں دیکھا کہ آ۔ آسمان پر بادل کے دو بڑے ٹکڑے ہیں۔ اُن میں سے ایک ٹکڑاسفید رنگ کا ہے اور دوسرا سیاہ رنگ کا۔ سیاہ رنگ کے بادل کے بڑے ٹکڑے کے پیچھے سیاہ رنگ کا ایک چھوٹا ٹکڑا بھی ہے، سفید بادل کا ٹکڑا اور سیاہ بادل کا بڑا ٹکڑا ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔ پھر سفید رنگ کا بادل، سیارہ رنگ کے بادل سے ٹکراتا ہے اور سیاہ رنگ کا بادل ریزہ ریزہ ہو کر غائب ہو جاتا ہے۔ پھر سفید بادل بڑے ٹکڑے کو شکست دینے کے بعد سیاہ بادل کے چھوٹے ٹکڑے کی طرف بڑھتا ہے تو سفید بادل جس میں لوگ سوار ہیں، سے آواز آتی ہے کہ اس سے نہیں ٹکرانا، یہ رضوان ہے اور یہ ہم میں شامل ہو جائے گا۔ آز نین رضوان صاحب نے بتایا کہ خواب کے بعد میرے دل میں شدید تڑپ پیدا ہو گئی کہ میں جلد از جلد حضرت امام مہدی علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہو جاؤں۔ علا حسین صاحب عراق کے رہنے والے ہیں۔ یہ لکھتے ہیں کہ جب سے میں نے بیعت کی ہے، مجھے ہر طرح کے امن و سلامتی اور سکون کا احساس ہو رہا ہے اور خدا تعالیٰ پر ایمان وایقان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اور یہ احساس ہوتا ہے کہ نہ صرف خدا تعالیٰ نے میرے گناہ بخش دیئے ہیں بلکہ اپنی محبت اور قرب میں بڑھایا ہے اور اب میں خدا تعالیٰ کی معیت میں ہوں اور میرے تمام اعضاء میں خدا تعالیٰ کی طرف سے برکت محسوس ہوتی ہے اور دین اسلام کی صداقت خوب کھل گئی ہے۔ پھر یہ مجھے لکھ رہے ہیں کہ آج سے دو سال قبل میں نے رمضان کے آخری عشرے کے دوران خواب میں آسمان اور زمین کے درمیان پگڑی والے ایک شخص کو دیکھا تھا جس کی پگڑی کے اوپر سفید رنگ کے پر کے مشابہ کوئی چیز ہے۔ اس شخص کا بڑا رعب ہے اور وہ فی البدیہ طور پر اونچی آواز میں شعر یا نظم پڑھ رہا ہے جو میں سن رہا ہوں اور اپنے آپ میں ایسی گرمجوشی، تسلی اور امن محسوس کرتا ہوں جس کا بیان نا ممکن ہے۔ میں اپنے دل سے اس کے اشعار سن رہا ہوں ، نہ ظاہری کانوں سے۔ اس شخص کے الفاظ اور عبارتیں کان میں ایسی پڑرہی تھیں جیسے ٹھنڈا پاکیزہ پانی ہوتا ہے اور جو کلام میں اس بزرگ امام سے سنتا ہوں اس جیسا کلام میں نے پہلے کبھی نہیں سنا ہو گا۔ ایسے لگتا ہے جیسے میں اُسے پیتا جارہا ہوں۔ در حقیقت میر ادل سن اور