سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 432
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 412 روک رہے ہو۔ اس وقت کا جو امام ہے وہ پیغام دیتا ہے کہ توحید الہی پر قائم ہو جاؤ اور اکٹھے ہو کر اسلام کا جھنڈا اور آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور جھنڈا بلند کرو۔ کیا تم اس آواز کو روک دینا چاہتے ہو جو قرآن کریم کی تصدیق کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شاہد ہے اور عین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق آیا ہے۔ معلم صاحب کی گفتگو کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھا اثر ہوا۔ اور ایک ایک کر کے اُن میں سے لوگ جانے شروع ہو گئے اور مولوی صرف اکیلے ہی رہ گئے۔ امیر صاحب ٹوگو بیان کرتے ہیں کہ نتیجہ احمد صاحب (Motidja Ahmad) نو مبائع ہیں۔ یہ Amato کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے (جماعت احمد یہ آماتو کے) جلسہ نو مبائع کے دوران گواہی دی کہ وہ بیس سال سے مسلمان ہیں اور اب تک اُنہیں نہ تو صحیح نماز پڑھنی آتی ہے اور نہ ہی اسلام کے بارے میں کچھ معلوم تھا۔ کیونکہ مولوی کو صرف پیسے سے پیار ہوتا ہے، تعلیم دینے اور شادی بیاہ عقیقہ و غیرہ کے موقع پر پیسے کا لالچ ہوتا ہے حتی کہ جنازہ پڑھانے کی بھی فیس ہے، اس کے بغیر مولوی جنازہ نہیں پڑھاتے۔ لیکن خدا کے فضل سے دو سال پہلے جب سے احمد ی ہوا ہوں احمدی معلم اور مبلغین نے جس رنگ سے تربیت کی ہے ، اُس کی وجہ سے اب مجھے اسلام کے بارے میں بہت سی معلومات ملی ہیں اور اب میں ایک داعی الی اللہ کے طور پر کام کرتا ہوں۔ خدا کے فضل سے پنجوقتہ نمازی ہونے کے ساتھ ساتھ تہجد بھی ادا کرتا ہوں۔ اور جو بیس (20) سال میں نے احمدیت کے بغیر گزارے اُس پر خدا کے حضور معافی مانگتا ہوں۔ پھر لائبیریا کے مبلغ ناصر صاحب لکھتے ہیں کہ چھ ماہ قبل ہم نے ایک ایسے گاؤں میں تبلیغ کا پروگرام بنایا جو ایک مشکل جگہ پر واقع ہے اور کوئی گاڑی وہاں پر پہنچ نہیں سکتی۔ تقریباً پانچ چھ کلو میٹر پیدل چلنا پڑا۔ راستے میں ایک دریا پڑتا ہے جس کو عبور کرنے کے لئے چند لکڑیاں آپس میں باندھ کر مقامی ساخت کا ایک پل بنایا گیا۔ نئے آدمی کے لئے اس پر سے گزرنا بھی کافی مشکل کام ہے۔ دریا عبور کر کے جب ہم اس گاؤں میں پہنچے تو سب سے پہلے امام سے ملے اور اس کو