سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 431 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 431

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 411 منسلک تھے اور احمدیت قبول کرنے کے بعد ان میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ اپنے گھر کی دیواروں پر بیعت کی قبولیت کے جو خطوط میری طرف سے گئے ہوئے تھے وہ بھی انہوں نے فریم کر کے لگائے ہوئے ہیں۔ اب بعض باتیں بظاہر بڑی چھوٹی لگتی ہیں لیکن جب ایسے لوگوں کو دیکھو جو بالکل دیہات میں ہیں، جن کا ایمان سے کوئی تعلق نہیں۔ جن میں نیا نیا ایمان داخل ہوا ہے وہ جب اپنی ہر بات کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر منتج کرتے ہیں تو بہر حال یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ایک انقلاب ہے جو اُن کی طبیعتوں میں پیدا ہوا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ ٹیچی مان غانا کا ہے۔ یہاں ایک جگہ ہے'Oforikrom‘ یہاں ایک مخلص احمدی سعید عیسیٰ رہتے ہیں۔ ایک دن وہ اپنے زرعی فارم پر کام کرنے گئے۔ کام کرنے کے دوران نماز کا وقت ہو گیا تو کام چھوڑ کر نماز پڑھنے چلے گئے۔ نماز سے واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ درخت کی ایک بڑی شاخ اس جگہ پر گری پڑی ہے جہاں وہ نماز سے پہلے کام کر رہے تھے اور اچانک گری تھی۔ اگر نماز پڑھنے نہ جاتے تو وہ درخت کی شاخ اُن کی موت کا بھی باعث بن سکتی تھی۔ اس بات نے اُن کے ایمان میں اضافہ کیا کہ دیکھو نماز کی وجہ سے میری جان بچ گئی۔ اسی طرح بعض نا مساعد حالات میں الہی حفاظت کے واقعات ہیں۔ بینن کے جو گور یجن کے اجتماع کا انعقاد Japango جماعت میں کیا گیا جو ایک نو مبائع جماعت ہے۔ دورانِ اجتماع جو گو شہر سے کچھ مولوی اپنے کارندوں کے ساتھ ڈنڈے اور لاٹھیاں لے کر مسجد میں آگئے کہ ہم احمدیوں کو مار بھگائیں گے ، اُن کا اجتماع نہیں ہونے دیں گے۔ یہ بالکل نئے احمدی جوش ایمان سے لبریز تھے۔ بالکل نئے احمدی تھے لیکن بہر حال اُن میں ایمان تھا۔ کہتے ہیں مخالفین کو دیکھ کر اپنے لوکل مشنری سے کہنے لگے کہ آپ مسجد کے اندر چلے جائیں، ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح حملہ کرتے ہیں۔ چنانچہ وفد کی صورت میں مخالفین کو سمجھانے لگے۔ پہرہ دینے لگے جب کہ مخالفین اُن کی بات سننے کو تیار نہ تھے۔ آخر لوکل مشنری صاحب ہی آگے بڑھے کہ بتاؤ کہ کس آواز اور پیغام کو تم روکنا چاہتے ہو۔ افریقنوں میں کم از کم یہ عقل اور شعور ہے جو آپ کو آجکل کے پاکستانی ملاں میں نظر نہیں آئے گا۔ کہتے ہیں کہ تم ہمیں کس بات سے