سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 433 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 433

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 413 درخواست کی کہ ہم آپ لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں اور احمدیت کا پیغام سنانا چاہتے ہیں۔ : چنانچہ اُس نے سارے لوگوں کو جمع کیا۔ خاکسار نے ایک لمبی تقریر کے بعد اُن کو احمدیت میں شمولیت کی دعوت دی۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہم پہلے بھی مسلمان کہلاتے ہیں اور احمدی بھی مسلمان ہیں تو شمولیت سے کیا فرق پڑے گا۔ کہتے ہیں میں نے اُن کو اُن کی سمجھ کے مطابق بتایا۔ وہ اتنے پڑھے لکھے لوگ تو نہیں تھے لیکن وہاں افریقہ میں فٹ بال کا بڑا شوق ہے۔ تو انہوں نے ان کو اسی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ فٹ بال کے کھلاڑی ہیں اور آپ کو کوئی اچھا فٹ بال کلب شمولیت کی دعوت دے تو آپ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ میں تو پہلے ہی فٹ بال کا کھلاڑی ہوں۔ میں کیوں آپ کے کلب میں شامل ہوں۔ آپ اکیلے کھلاڑی کچھ نہیں کر سکتے ، کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے جب تک کسی اچھی ٹیم میں شمولیت اختیار نہ کریں۔ اس وقت احمدیت اسلامی میدان میں بہترین ٹیم ہے اور زمانے کا امام اس کو لے کر چل رہا ہے۔ اس مثال سے وہ بہت محظوظ ہوئے اور سب نے امام سمیت جماعت میں شمولیت کا اعلان کیا۔ کہتے ہیں خاکسار نے اس وجہ سے کہ نئے احمدی ہیں ، اگر چندہ کا کہا تو ان میں کہیں دُوری نہ پیدا ہو جائے یا یہ نہ کہیں کہ صرف پیسے کے لئے آیا ہے تو میں نے چندہ کا وہاں ذکر نہیں کیا۔ کہتے ہیں کہ کچھ دنوں کے بعد وہ امام صاحب سارے گاؤں کا چندہ لے کر خود مربی صاحب کے پاس شہر میں آگئے کہ جب وہ احمد ی نہ تھے اُس وقت بھی شہر کی دوسری مسجد میں جا کر چندہ دیتے تھے اور اب جبکہ ہم نے احمدیت قبول کر لی ہے تو چندہ ہم یہاں ادا کیا کریں گے۔ تب سے وہ ہر ماہ بغیر توجہ دلائے با قاعدہ چندہ لاتے ہیں اور واپس جا کر ان کو رسیدیں بانٹتے ہیں۔ اب یہ اگست کا چندہ لے کر آئے ہیں اور انہوں نے کہا کہ آپ موسم برسات میں بالکل وہاں آنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ راستے میں بہت پانی ہے اور میں چندہ دینے کے لئے اپنے کپڑے اتار کر پانی سے گزر کر آیا ہوں۔ تو یہ لوگ اتنی محنت اور تردد کرتے ہیں۔ پھر محمود احمد صاحب مبلغ سلسلہ نائیجیر یا لکھتے ہیں کہ ہم ایک نئی جماعت گوئی (Goye) میں ایم ٹی اے کے لئے ڈش لگانے گئے۔ جب ہم ڈش لگا چکے تو اُس وقت ایم ٹی اے پر جلسہ سالانہ کینیڈا کی کارروائی جاری تھی اور مجھے لکھتے ہیں کہ آپ وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس گاؤں میں ٹی وی