سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 42
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 22 کہ عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں نے کہا تھا کہ کون ہیں جو اللہ کی طرف راہنمائی کرنے میں میرے انصار ہوں۔ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے انصار ہیں پس بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے انکار کر دیا پس ہم نے اُن لوگوں کی جو ایمان لائے اُن کے دشمنوں کے خلاف مدد کی تو وہ غالب آگئے ۔ “ (الصف: 15) تو جب مسیح محمدی کو مان کر ، اس پر ایمان لا کر ہم انصار اللہ میں شامل ہو چکے ہیں تو پھر اس تعلیم پر بھی عمل کرنا ہو گا۔ اور اُن باتوں کو بھی ماننا ہو گا جن کا تقاضا اور مطالبہ ہم سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق دشمنوں پر ہمیں جلد غلبہ عطا ہو۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ : تمام کامیابی ہماری معاشرت اور آخرت کے تعاون پر ہی موقوف ہو رہی ہے۔ کیا کوئی اکیلا انسان کسی کام دین یا دنیا کو انجام دے سکتا ہے، ہر گز نہیں۔ کوئی کام دینی ہو یا دنیوی بغیر معاونت باہمی کے چل ہی نہیں سکتا۔ ہر گروہ کہ جس کا مدعا اور مقصد ایک ہی مثل اعضائے یک دیگر ہے اور ممکن نہیں جو کوئی فعل جو متعلق غرض مشترک اس گروہ کے ہے بغیر معاونت باہمی ان کی کے بخوبی و خوش اسلوبی ہو سکے۔ بالخصوص جس قدر جلیل القدر کام ہیں اور جن کی علت غائی کوئی فائدہ عظیمہ جمہوری ہے وہ تو بجز جمہوری اعانت کے کسی طور پر انجام پذیر ہی نہیں ہو سکتے اور صرف ایک ہی شخص ان کا متحمل ہر گز نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا۔ انبیاء علیہم السلام جو تو گل اور تفویض اور تحمل اور اور حمل اور مجاہدات افعال خیر میں سب سے بڑھ کر ہیں ان کو بھی بہ رعایت اسباب ظاہری مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللهِ کہنا پڑا۔ خدا نے بھی اپنے قانون تشریعی میں بہ تصدیق اپنے قانون قدرت کے تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوی کا حکم فرمایا۔“ ( براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد 60-59 اول صفحہ تو اس اقتباس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام واضح طور پر فرمارہے ہیں کہ ہماری تمام کامیابیاں چاہے وہ دنیاوی ہوں یا دینی ہوں بغیر آپس کے تعاون کے حاصل نہیں