سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 428
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 408 گاؤں میں آئے اور لالچ دی کہ جماعت کو چھوڑ دو تو یہ سب سامان دے دیں گے۔ ایک خوبصورت مسجد بنا کر دیں گے ۔ گاؤں والوں نے باوجود غریب ہونے کے سب کچھ ٹھکر ادیا اور کہا کہ ہم زمین پر نماز پڑھ لیں گے۔ ہمیں ایمان کی جو روشنی احمدیت نے دی ہے اُس کو ہر گز نہیں چھوڑیں گے۔ اس کے بعد مخالفین نے امام کو لالچ دیا کہ اگر تم ہماری طرف آجاؤ تو ہم تم کو 5000 3 فرانک ماہانہ دیں گے۔ اُس نے جواب دیا کہ مجھے میرے کھیت سے جو ملتا ہے وہی کافی ہے۔ مجھے آپ کے پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آخر مخالفین تمام تر کوششوں کے بعد ناکام لوٹ گئے اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں پوری جماعت قائم ہے اور نظام کے ساتھ قائم ہے۔ لوگ پوری طرح اُس میں شامل ہیں۔ ۔۔۔ بین کے مبلغ عارف محمود صاحب لکھتے ہیں کہ تو کپوئے (Tokpoe) میں جماعت کا قیام آج سے چار سال قبل ہوا۔ یہاں جماعت کی ایک مسجد بھی ہے جو کہ چند سال قبل تعمیر کی گئی تھی۔ اس سال رمضان المبارک میں اس گاؤں کے احمدی اور نو مبائع افراد کی تعلیم و تربیت اور دیگر جماعتی پروگرام کے لئے امیر صاحب کی اجازت سے مدرسہ احمد یہ پوبے سے پاس ہونے والے طلباء میں سے ایک طالبعلم Agbozo Souleman کو بھجوایا جو یکم رمضان سے لے کر عید تک یہاں رہا۔ اس طالبعلم نے مجھے بتایا کہ مؤرخہ تیس رمضان کو شام پانچ بجے ایک گاڑی ہماری مسجد کے پاس آکر رکی اور اُس میں سے ایک عربی شخص اترا اور اُس نے اس طالبعلم سے پوچھا کہ اس مسجد کا امام کون ہے ؟ سلیمان نے جواب دیا کہ میں ہی مسجد کا امام ہوں۔ اس طرح باتیں کرتے کرتے وہ سلیمان کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا اور اندر سے مسجد کو دیکھا اور سلیمان سے کہا کہ وہ سعودی عرب سے ہے اور مکہ مکرمہ کے قریب ہی اُس کا شہر ہے۔ وہ یہاں کام کے سلسلے میں آیا ہوا ہے اور اس نے چودہ ہزار فرانک سیفا نکال کر سلیمان کو دیئے اور کہا کہ کل عید ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ ان پیسوں سے کچھ خرید کر غریبوں میں تقسیم کر دیں۔ اس پر سلیمان نے اُس سے کہا کہ جماعتی سطح پر ہم نے انتظام کیا ہوا ہے اور ہم احمد یہ جماعت سے ہیں۔ ہم ہر بات اور کام کی تفصیل اپنے ریجن کے مشن ہاؤس کو دیتے ہیں اور وہ امیر کے ذریعے سے خلیفہ