سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 427
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 407 تھے۔ چنانچہ اسی وجہ سے گھریلو تشدد کے باعث اُن کا معاملہ پولیس کے پاس چلا گیا اور ان کے ماضی کی وجہ سے قوی امکان یہی تھا کہ اُنہیں جیل ہو جائے گی۔ اُن کی اہلیہ جو کہ جماعت میں کافی دلچسپی لیتی ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر احمدیت سچی ہے تو پھر تمہیں سزا سے بچ جانا چاہیے۔ اس ضمن میں انہوں نے مجھے بھی دعا کے لئے لکھا۔ اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر انہیں جیل سے محفوظ رکھا۔ ان کی اہلیہ نے ابھی تک بیعت نہیں کی تاہم ان کے جماعت میں شامل ہونے کی وجہ سے ان کے قبیلے کے باقی لوگوں کے احمدیت قبول کرنے کا امکان ہے۔ ایک تو یہ بہت بڑا breakthrough ہوا ہے، لیکن انشاء اللہ وہاں کے یہ مقامی باشندے جو ماؤری کہلاتے ہیں جب کثیر تعداد میں احمدی ہوں گے تو اُس علاقے میں انشاء اللہ ایک بہت بڑا بریک تھرو ہو گا۔ اس قبیلے کے بعض elders نے جماعتی وفد کے دورے کے موقع پر ہمارے ساتھ نماز بھی پڑھی۔ کیونکہ اُن کے ایک بزرگ نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ پیس پرافٹ (Peace Prophet) کے لوگ اُن کے ماؤری کا وزٹ کرنے آئیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اُن کو تیاری کروائی ہوئی ہے۔ ۔۔۔ عرفان احمد صاحب مبلغ ٹو گو لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں میں تبلیغی پروگرام کے دوران ہمیں ایک بزرگ ملے جنہوں نے 1958ء میں غانا میں احمدیت قبول کی تھی۔ اس کے بعد اُن کا رابطہ بالکل ختم ہو گیا تھا لیکن دل سے احمدی تھے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو انہوں نے اپنے تمام حالات بتائے۔ پروگرام کے بعد اس علاقے کے مولویوں نے اکٹھے ہو کر اُن کو بلایا اور دھمکی دی کہ وہ ہر گز یہاں احمدیت نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ سے احمدی ہوں اور یہاں کا رہنے والا ہوں۔ آج کے بعد یہاں احمدیت کی ترقی کے لئے کام کروں گا۔ اُس کے بعد سے بڑے ہو گئے۔ active ۔۔۔ ٹوگو ریجن ہاہو (Haho) کے ایک گاؤں کمپیوے (Kpeve) میں تبلیغ کی گئی۔ یہ گاؤں مشرکوں کا ہے۔ تبلیغ کے نتیجے میں 64 افراد نے احمدیت قبول کی۔ حسب معمول مخالفین نے وہاں جا کر ان کو جماعت سے بد ظن کرنے کے لئے غلط باتیں کرنی شروع کر دیں اور اُن سے کہا کہ یہ لوگ کافر ہیں۔ ان کو قبول کر کے تم دوزخ میں چلے جاؤ گے۔ سامان کی گاڑیاں بھر کر