سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 429
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 409 المسیح کو رپورٹ بھجواتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ وہ جو عرب تھا اس آدمی نے شاید غور سے اُن کی بات نہیں سنی اور اپنی بات کرتا گیا کہ کس طرح اسلام کی خدمت کی جاسکتی ہے اور وہ کر بھی رہا ہے۔ (خود بتا تا رہا کہ میں کس طرح اسلام کی خدمت کرتا ہوں) کہتے ہیں اسی اثناء میں جو اُس کا ڈرائیور تھا اُس نے پوچھا کہ امیر کون ہے اور یہ خلیفہ کیا ہے ؟ اُس کی بات سن کر وہ آدمی بھی تھوڑا سا چونکا اور پوچھا کہ مسجد کن کی ہے؟ سلیمان نے بتایا کہ احمدی مسلمانوں کی ہے۔ اُس نے پھر استفسار کیا کہ مسجد کن کی ہے؟ سلیمان نے کہا کہ بتایا تو ہے کہ یہ مسجد احمدی مسلمانوں کی ہے۔ جس پر وہ آدمی غصہ سے بولا کہ احمدی مسلمانوں کی نہیں، احمدی کافروں کی کہو، کیونکہ یہ لوگ کافر ہیں۔ پاکستان میں ان کو گورنمنٹ نے کافر قرار دیا ہوا ہے۔ (یعنی یہ فتوے اب سعودی عرب میں بھی پاکستان سے آتے ہیں)۔ سعودی عرب میں ہم نے بھی ان کے حج پر پابندی لگا رکھی ہے۔ یہ دہشتگرد ہیں اور اسلام سے باہر ہیں۔ اس پر سلیمان نے کہا کہ مسلمان یا کافر ہونے کا تو خدا ہی جانتا ہے کہ یہ کون ہے۔ اتنی دیر میں اس گاؤں کے کچھ اور افراد بھی آگئے۔ اُن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سلیمان نے مزید کہا کہ یہ سب لوگ بت پرست تھے ، ان کو جماعت احمد یہ نے تبلیغ کی اور ان کو قرآن کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ اُنہیں نماز پڑھنے کا طریق سکھایا گیا ہے۔ یہ سب احمدی جماعت نے کیا ہے؟ کیا کوئی کافر ایسا کر سکتا ہے؟ اور یہ لو اپنے چودہ ہزار فرانک سیفا اور جس اسلام کی تم خدمت کرنا چاہتے ہو ، وہ اس گاؤں میں نہیں ہے۔ اس پر وہ آدمی بولا کہ اگر تم مسجد پر ”محمد یہ مسجد “ لکھ دو تو میں آپ کو اور بھی پیسے دینے کو تیار ہوں۔ سلیمان نے کہا کہ جو خزانہ تعلیمات کی صورت میں ہم کو جماعت احمد یہ سے ملا ہے ، وہ ہمارے لئے کافی ہے۔ (اول تو یہ لکھنے میں کوئی حرج نہیں تھا لیکن بہر حال اُس کی جو نیت تھی وہ اور تھی، اس لئے انہوں نے انکار کر دیا)۔ پھر وہ آدمی سلیمان کو دوسرے لوگوں سے ذرا فاصلے پر لے گیا۔ نوجوان سمجھ کے اُس نے سوچا کہ اس کو لالچ دو اور کہا کہ اگر تم احمدیت چھوڑ دو تو میں آپ کی ہر طرح کی مدد اور خدمت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ بلکہ آپ کا ماہانہ الاؤنس بھی مقرر کر دوں گا اور اس کے علاوہ بھی آپ کو وہ کچھ مل جائے گا جس کا تم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا۔ اس پر سلیمان نے کہا کہ میں جماعت