سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 426 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 426

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 406 ۔۔۔ مفيض الرحمن صاحب مبلغ سلسلہ بوسنیا لکھتے ہیں کہ ایک دوست Samajo Mufti ch صاحب کو جب جماعت کا پیغام پہنچا تو موصوف جماعتی سینٹر میں آئے اور جماعتی تعلیم کے بارے میں استفسار کرتے رہے۔ دورانِ گفتگو ان کی نظر (وہاں میری تصویر لگی ہوئی تھی) اُس پر پڑتی تھی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں ؟ جب اُن کو تعارف کروایا گیا تو کہنے لگے کہ ان سے ملاقات ہو سکتی ہے ؟ اُن دنوں میں چونکہ جلسہ جرمنی کی آمد تھی۔ موصوف جلسہ جرمنی میں تشریف لائے ، وہاں جلسہ میں شامل ہوئے۔ جلسہ کے سب مقررین کی بھی اور میری بھی تقریریں سنیں۔ وہاں مجھے ملے بھی، دیکھتے رہے اور بڑے جذباتی ہوتے رہے اور یہ بھی کہتے رہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیوں رو رہا ہوں اور اس جلسہ پر بیعت کر کے پھر جماعت میں داخل ہو گئے۔ چودہ سال سے نماز اور اسلامی شعار سے بالکل دُور تھے حالانکہ پہلے مسلمان تھے۔ لیکن الحمد للہ اب احمدیت میں داخل ہونے کے بعد ان تمام شعار کے پابند ہیں اور پابندی کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہ انقلاب ہے جو احمدیت لاتی ہے اور ہر احمدی کو یہ اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے اور تبھی ہم، جو انصار اللہ کی عمر کے ہیں، انصار اللہ بھی کہلا سکتے ہیں کہ اگر اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے جوڑیں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کریں اور اخلاص و وفا کے اعلیٰ نمونے دکھانے والے ہوں۔ ۔۔۔ پھر اسی طرح لکھتے ہیں کہ ایک اور دوست حسن صاحب کو احمدیت کا پیغام ملا تو دو تین مرتبہ احمدیت کے بارے میں گفتگو کے بعد موصوف نے بیعت کر لی۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس وقت اسلامی معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی کی ضرورت ہے جو صرف احمدیت میں نظر آتی ہے۔ موصوف چونکہ کتب کی فروخت کا کاروبار کرتے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے بک سٹال پر جماعتی کتب بھی رکھی ہوئی ہیں اور خود بھی تبلیغی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ صدر صاحب نیوزی لینڈ لکھتے ہیں کہ نومبر 2011ء میں جماعت احمد یہ نیوزی لینڈ کو یہاں کے مقامی ماؤری (Maori) باشندوں میں سے پہلی بیعت حاصل ہوئی۔ اس دوست میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام احمدیت قبول کرنے کے بعد ایک بڑی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ یہ دوست بیعت سے سے قبل بد قسمتی سے اپنے مخصوص ماحول کی وجہ وجہ سے پُر تشد د طبیعت کے مالک