سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 425 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 425

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 405 ہیں۔ انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی ہمارے لوکل مشنری زورِے اسماعیل سے کر دی۔ احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے وہ وہابی تھے۔ انہوں نے اپنی مسجد میں جاکر اعلان کیا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کارشتہ جماعت احمدیہ کے مشنری سے کر دیا ہے اور ان کی بیٹی کا نکاح بھی احمد یہ مسجد میں ہی ہو گا۔ اس لئے وہ سب کو دعوت دینے کے لئے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا کہ وہ امام مہدی جس کا انتظار ہے آچکے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ جب مولویوں نے اُن کی یہ بات سنی تو انہوں نے کہا کہ تو نے اپنی بیٹی کا رشتہ کافر سے کر دیا ہے۔ اس لئے توبہ کرو اور اپنی بیٹی کا رشتہ وہاں نہ کرو۔ ایک زمانہ تھا جب مسلمانوں کو وہاں افریقہ میں کوئی پوچھا نہیں کرتا تھا، لیکن اب کئی سالوں سے ، کچھ عرصے سے مختلف عرب ممالک، مسلم ممالک اپنے لوگوں کو بھیجتے ہیں جن کا صرف اس بات پر زور ہوتا ہے کہ احمدی کا فر ہیں، جماعت میں شامل نہ ہوں اور اکثر جگہ کافی مہم چل رہی ہے۔ لیکن بہر حال اس سے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ تو کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا اس لئے تو بہ کرو اور اپنی بیٹی کا رشتہ وہاں نہ کرو۔ اس پر اور لیس صاحب وہاں سے چلے آئے اور کچھ عرصے بعد جب اُن کی بیٹی کی شادی ہو گئی تو اُن کی دوسری بیوی کے والدین نے اپنی بیٹی کو گھر بلا لیا۔ بیٹی کو انہوں نے کچھ نہیں بتایا کہ کس سلسلہ میں انہوں نے اس کو گھر بلایا ہے کیونکہ لڑکی کے والدین اور مولوی صاحبان آپس میں بات کر چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے اور لیس صاحب کو بلایا اور کہا کہ ہماری تین شرائط ہیں۔ تم سب کے سامنے یہ اقرار کرو کہ نعوذ باللہ امام مہدی علیہ السلام جھوٹے ہیں۔ نمبر دو اعلان کرو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ دوبارہ آئیں گے۔ نمبر تین یہ کہ تم نے اپنی بیٹی جو احمد یہ مشنری کو دی ہے، اُس کو واپس بلاؤ۔ یہ تین شرطیں پوری کرو گے تو تمہیں تمہاری بیوی واپس دے دیں گے۔ اس پر ادریس صاحب نے سبحان اللہ کہا اور واضح طور پر بتا دیا کہ وہ ایسا ہر گز نہیں کر سکتے اور کہا کہ وہ حق کو تسلیم کر چکے ہیں اور اس کے لئے جتنی بھی قربانیاں دینی پڑیں وہ تیار ہیں۔ اس کے بعد ادریس صاحب نے بیوی کے والدین سے بات کرنا چاہی مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ جو ہمارے مولویوں کا فیصلہ ہے وہی ہمارا فیصلہ ہے۔ اس پر وہ اپنی بیوی کو چھوڑ کر گھر چلے آئے لیکن احمدیت پر قائم رہے۔