سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 424
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 404 ہوتی ہے کہ کتنی جلدی ان لوگوں نے کتنی ترقی کی ہے اور بڑی تیزی سے مزید ترقی کی منازل طے کرتے چلے جارہے ہیں۔ نو مبائعین کے ایمان افروز واقعات بہر حال میں نے سوچا کہ آج اُس کیفیت میں آپ لوگوں کو بھی شامل کرنا چاہیے جو ان کے واقعات دیکھ کر ہوتی ہے۔ جس کے لئے یہی طریق ہو سکتا ہے، جیسا کہ میں نے کہا کہ آپ کو آج شامل کروں اور مختلف اوقات میں، مختلف مجالس میں ان کا ذکر کیا جاتا رہے جو ہر ایک کے لئے ازدیاد ایمان کا باعث بنتے ہیں۔ ۔۔۔ انڈیا سے سروتر اجماعت جو گجرات میں ہے، اُس کے صدر اصغر بھائی صاحب لکھتے ہیں کہ جب سے وہ بیعت کر کے جماعت میں داخل ہوئے ہیں، مخالفین ہر طرح سے اُن کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔ جہاں اُن کی بیٹی کی شادی ہوئی تھی اُن لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ یہ احمدی ہو گئے ہیں تو ان پر زور ڈالا کہ احمدیت چھوڑ دو۔ بیٹی کے سسرال والوں نے شہر کے بڑے بڑے علماء کو اکٹھا کیا۔ ( انڈیا میں بھی بہت زیادہ مخالفت شروع ہو چکی ہے) اور رات میٹنگ بٹھا کر کہا کہ یا تو احمدیت چھوڑ دو یا لڑکی کو اپنے ساتھ واپس لے جاؤ۔ موصوف نے مخالفین کا مقابلہ کیا اور بڑی دلیری سے کہا کہ بیشک میری بیٹی واپس بھیج دو لیکن میں احمدیت نہیں چھوڑ سکتا۔ وہیں رات کو بیٹھ کر طلاق لکھی گئی اور لڑکی کو طلاق دے کر صبح اپنے ماں باپ کے ساتھ بھیج دیا گیا۔ یعنی ایک رات بھی یہ شادی نہیں چلی۔ یہ اپنی بیٹی کو لے آئے لیکن اپنے ایمان پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی اور ثابت قدم رہے۔ یہ اُن لوگوں کے لئے بھی سبق ہے جو بعض پرانے احمدی ہیں۔ ذرا ذراسی بات پر ، رشتوں پر کوشش ہوتی ہے کہ ہماری بات مان لی جائے اور لڑکیوں کے معاملے میں خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑا واضح طور پر فرمایا ہے کہ اپنی لڑکیاں غیر احمدی کو نہیں دینیں۔ ۔۔۔ پھر اعجاز احمد صاحب مبلغ سلسلہ بورکینا فاسو لکھتے ہیں کہ شہر ڈوگو کے ایک نو مبائع پارے ادریس صاحب ہیں جو کہ مستری کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے دو شادیاں کی ہوئی