سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 421 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 421

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 401 عہدیدار اپنی عبادتوں کے معیار کو ہی بہتر کر لیں تو مسجدوں کی۔۔ آبادی ۔۔۔ دو تین گنا بڑھ سکتی ہے ان دنوں میں ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر ہر سطح کے ذیلی تنظیموں کے بھی اور مرکزی عہدیداروں کو بھی میں کہتا ہوں کہ اپنے جائزے لیں۔ واقفین زندگی کو بھی اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور عمومی طور پر ہر احمدی کو تو ہے ہی کہ جب ہم نصیحت کرتے ہیں تو خود ہماری اپنی زندگیوں پر بھی اُن کے اثرات ظاہر ہوں۔ اگر ایک عام مسلمان کا یہ فرض ہے ، ایک عام مومن کا یہ فرض ہے اور وہ اس کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ نیکیوں کو پھیلائے اور برائیوں کو روکے تو جو لوگ اس کام کے لئے مقرر ہیں اُن کا تو سب سے زیادہ فرض بنتا ہے اور یہ فرض پورا بھی اُس وقت ہو گا جب ہماری اپنی نیتیں بھی صاف اور پاک ہوں گی، جب خود ہر حکم پر عمل کرنے کی بھر پور کوشش ہو گی۔ اگر عہدیداروں کے عبادتوں کے معیار بھی صرف رمضان میں بہتر ہوئے ہیں اور عام دنوں میں نہیں تو وہ بھی قول و فعل میں تضاد رکھتے ہیں اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ میں اکثر مختلف میٹنگوں میں عہدیداران کو یہ توجہ دلاتا ہوں کہ اگر ہر سطح پر اور ہر تنظیم کے عہدیدار اپنی عبادتوں کے معیار کو ہی بہتر کر لیں اور مسجدوں کو آباد کرنا شروع کر دیں تو مسجدوں کی جو آبادی ہے و ہے وہ موجودہ حاضری سے دو تین گنا بڑھ سکتی ہے۔ پس اس ھ سکتی ہے۔ پس اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے باقی احکامات ہیں۔ اُن کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تو اس سے بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں۔ پھر اسی طرح جیسا کہ میں نے کہا دوسرے احکام ہیں ان پر عمل ضروری ہے۔ قرآن کریم کا ایک حکم یہ بھی ہے کہ انصاف کو اس طرح قائم کرو کہ اپنے خلاف بھی گواہی دینی پڑے یا اپنے پیاروں والدین اور قریبیوں کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو دو۔ اگر جائزے لیں تو ہم میں عموماً وہ معیار نظر نہیں آتے۔ پس ایک طرف تو ہم دعاؤں کی قبولیت کے نشان مانگتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے بندوں میں شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور پھر گواہی کے وقت راستے تلاش کرنے کی کوشش