سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 422 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 422

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 402 کرتے ہیں کہ کس طرح اپنے قریبیوں کو مجرم ہونے سے بچالیں۔ بلکہ بعض دفعہ کوشش ہوتی ہے کہ ہم اور ہمارے قریبی بچ جائیں اور دوسرے کو کسی طرح ملزم بنا دیا جائے۔ بعض دفعہ عہد یداروں کے متعلق یہ شکایات بھی آجاتی ہیں، مجھے لکھنے والے لکھتے ہیں کہ آپ نے توجہ دلائی ہے کہ جماعت میں فلاں فلاں عہدیدار کے متعلق یہ شکایت ہے یا بعض دفعہ جلسوں وغیرہ میں بعض کمزوریوں کی طرف نشاندہی کی جاتی ہے تو بجائے اس کے کہ وہ عہد یداریا متعلقہ شعبہ جو ہے یا مجموعی طور پر جس کو بھی کہا جائے اپنی اصلاح کرے، اس بات کی تحقیق شروع کر دیتے ہیں کہ یہ شکایت کس نے کی ہے ؟ حالانکہ اُن کا یہ کوئی مقصد نہیں ہے۔ تمہیں تو چاہیے تھا کہ اس پر غور نہ کرو کہ شکایت کس نے کی ہے ؟ تمہارا اس سے کوئی کام نہیں۔ اگر یہ کمزوری ہے تو دور کرو اور اگر نہیں ہے تو پھر بھی استغفار کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ناکردہ گناہوں کی سزا سے بھی بچائے اور پھر جو صحیح رپورٹ ہے وہ دے دی جائے کہ اصل حقیقت اس طرح ہے۔ باقی یہ میرا کام ہے کہ شکایت کرنے والے کو کس طرح جواب دینا ہے یا جواب دوں کہ نہ دوں ؟ اگر بغیر نام کے کوئی شکایت کرتا ہے تو وہ تو ویسے بھی قابل توجہ نہیں ہوتی۔ اُس کی جماعت میں کوئی پذیرائی نہیں ہوتی۔ بہر حال یہ بات عہدیداروں سے اپنے عہدوں اور اپنی امانتوں کے پورا کرنے کا تقاضا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے سپر د جو یہ کام کیا ہے اُس کو صحیح طرح نبھائیں اور اسی طرح سچی گواہی کا تقاضا ہے کہ وہ اصلاح کی طرف توجہ دیا کرے، نہ کہ شکایت کنندہ کی تلاش کرنے کی طرف۔ اگر شکایت کرنے والے کا نام میں نے بتانا ہو گا تو خود ہی بتادوں گا اور اکثر بتا بھی دیا کرتا ہوں۔ لیکن یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس صورت میں پھر بعض دفعہ شکایت کرنے والے پر زمین تنگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ بھی تقویٰ سے دور بات ہے۔ یہ پھر امانتوں اور عہدوں کی صحیح ادائیگی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایات پر ، احکامات پر صحیح عمل نہیں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنا ہے تو ہر معاملے میں ، ہر سطح پر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق چلانے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔“ ( خطبه جمعه فرموده 10 اگست 2012ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل 31 اگست 2012ء)