سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 41

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 21 اُٹھا سکتا ہے۔ اور نوجوانوں کو بھی تبلیغ کے طریقے سکھا سکتا ہے۔ تو اس لحاظ سے سب سے زیادہ انصار اللہ کو دعوت الی اللہ کے میدان میں سر گرم ہونا چاہیے۔ پھر قرآن پڑھنا ہے۔ اس میں بھی انصار کو خود بھی اس طرف توجہ دینی چاہیے اور اپنے بچوں کو بھی توجہ دلانی چاہیے کیونکہ جب تک ہم قرآن پڑھ کر ، سمجھ کر اس کی تعلیم کو اپنے پر اور اپنی نسلوں پر لاگو نہیں کریں گے ہمارے مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ پھر شرائع کی حکمتیں بیان کرنا ہے جو احکامات ہیں اُن کو آگے بیان کرنا اس کے لئے بھی علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کی طرف توجہ دیں۔ اپنی بھی تربیت ساتھ ساتھ ہوتی جائے گی پھر تربیت ہے۔ انصار اللہ کی عمر تو ایک ایسی عمر ہے جس میں آپ تربیت کر تو سکتے ہیں لیکن آپ کی تربیت کرنی مشکل ہے۔ تو اس کے لئے بڑا آسان اصول ہے کہ آپ کے ذمہ جو فرض لگایا گیا ہے تربیت کرنے کا، اس کو پورا کریں، بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کی طرف توجہ دیں۔ اپنی بھی تربیت ساتھ ساتھ ہوتی جائے گی۔ پھر قوم کی دنیوی کمزوریوں کو دُور کرنا ہے۔ اس طرف بھی اگر سب توجہ دیں گے تو اقتصادی لحاظ سے بھی اپنے آپ کو مضبوط بنائیں گے ، جماعتی لحاظ سے بھی اور قومی لحاظ سے بھی۔ تو مرکزی سطح پر بھی اور مقامی سطح پر بھی، ہر ذیلی تنظیم کی (انصار اللہ کی بھی) شوری ہوتی ہے ، وہاں اس کے لئے تجاویز دیں۔ اپنے تجربہ سے دوسروں کو فائدہ پہنچائیں کیونکہ اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہونا بھی آج کل کے زمانہ میں انتہائی ضروری ہے تاکہ پھر بے فکر ہو کر دین کی خدمت کر سکیں یا دین کی خدمت کرنے والوں کی ضروریات کا خیال رکھ سکیں۔ تو یہ ساری باتیں ایسی ہیں جن پر انصار اللہ کو بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جب آپ اس لحاظ سے سوچیں گے تو پھر ہی آپ اللہ کے دین کے انصار بن سکتے ہیں اور اس آیت کے مصداق ٹھہریں گے کہ ” اے وہ لو گو ! جو ایمان لائے ہو اللہ کے انصار بن جاؤ جیسا