سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 417
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 397 مجلس، ریجن، ہر لیول پر عاملہ کے ممبر ان امتحان میں شامل ہوں، ہر مجلس میں شامل ہوں تو یہ تعداد آپ کی ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ آپ کی مجالس کی تعداد 72 ہے تو ایک ہزار پچاس سے زائد تو آپ کی عاملہ کے ممبر ان ہی ہو جائیں گے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ نے ایسے قائدین کو کیوں رکھا ہوا ہے جو خود بھی نمونہ نہیں ہیں۔ اس طرح عاملہ کے ممبران بھی امتحان میں شامل نہیں ہوئے۔ عاملہ کے سب ممبران اور عہدیداروں کو تو دوسروں کے لئے نمونہ بننا چاہیے۔ قائد تربیت کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ نمازوں، نوافل اور تہجد کی طرف انصار کو توجہ دلائیں۔ اسی طرح انتظامی باتوں کی طرف بھی توجہ دلائی جائے۔ بعض گھروں میں نظام کے بارہ میں باتیں ہوتی ہیں۔ گھروں کی شکایتوں سے اس بات کا پتا چل جاتا ہے کہ نظام کے بارہ میں باتیں ہوتی ہیں کہ فلاں امیر اچھا تھا، فلاں اچھا نہیں ہے ، یا فلاں عہدیدار ایسا ہے تو ان سب باتوں پر آپ کو زور دینا چاہیے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں جو خطبات دیتا ہوں ان میں حالات کے مطابق نصائح کرتا ہوں اور ہدایات دیتا ہوں تو یہ آپ کے لائحہ عمل کا حصہ ہونے چاہئیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا گھروں کے ماحول سے باخبر رہیں۔ ، بڑوں کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ توجہ دلاتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلسل نصیحت کرتے چلے جانے کا حکم دیا ہے۔ اس کا اثر ہوتا ہے۔ حضو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ آپ یہاں یہاں پیں پیس ویلج دیج(Peace ) Village) میں اپنا زعیم اعلیٰ بنائیں، آپ لائحہ عمل نہیں پڑھتے ، اپنا دستور نہیں پڑھتے۔ اپناز عیم اعلیٰ بنائیں۔ نماز فجر اور عشاء کی حاضری کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ بیت الذکر میں کتنے انصار آجاتے ہیں۔ قائد تربیت نے بتایا کہ دو تین صفیں ہوتی ہیں اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس پیس ویچ (Peace Village) میں مثال قائم نہیں کریں گے تو دوسری مجالس میں کس طرح ہو گا۔ نمازوں وغیرہ پر بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔