سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 40
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 20 میں آتی ہے اور اس لئے بھی حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی تو ہر وقت یہی خواہش ہوتی تھی اور کوشش ہوتی تھی کہ کون اسلام کی خدمت کے لئے آگے آئے اور میں اس کا ساتھ دوں، اپنے آپ کو اس انصار اللہ کی تنظیم میں شامل فرمایا۔ اس زمانہ میں اس تنظیم نے جس کی ممبر شپ اتنی وسیع نہیں تھی جو کام کئے وہ تو کئے لیکن حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة المسیح الثانی نے اپنے دورِ خلافت میں اس رویا کے تقریباً 30 سال بعد وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے 40 سال سے اوپر کی عمر کے ممبران جماعت کے سامنے کچھ مقاصد پیش کئے جو کہ قومی ترقی کے لئے ، نسلوں کی تربیت کے لئے ، انتہائی ضروری تھے۔ ایک تنظیم کا قیام فرمایا اور اس کا نام انصار اللہ رکھا۔ انصار اللہ کو پانچ باتوں کی طرف توجہ دینے کی ہدایت اس سے پہلے خدام الاحمدیہ کا قیام عمل میں آچکا تھا۔ اور جو خطبہ ارشاد فرمایا اس میں جن کاموں کی طرف جماعت کو توجہ دلائی وہ پانچ کام ہیں جن کو ہر فرد جماعت کو پیش نظر رکھنا چاہیے اور عمر کے لحاظ سے سب سے زیادہ انصار اللہ کو اس پر توجہ دینی چاہیے اور وہ کام یہ ہیں: 1۔ تبلیغ کرنا۔2۔ قرآن پڑھنا۔ 3۔ شرائع کی حکمتیں بیان کرنا۔4۔ اچھی تربیت کرنا۔ 5۔ قوم کی دنیاوی کمزوریوں کو دور کر کے اُسے ترقی کے میدان میں بڑھانا۔ آپ نے اس بات پر بڑا زور دیا کہ اگر یہ پانچ باتیں آپ میں پیدا ہو گئیں تو انشاء اللہ تعالیٰ ہماری ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ جائے گی۔ آپؐ نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آخرین کا بھی یہی کام ہے جو صحابہ نے کیا اور صحابہ کے یہی پانچ اہم کام تھے ، اور یہی ہم نے کرنے ہیں۔ تبلیغ ہماری ذمہ داری ہے۔ پیغام حق پہنچانا ضروری ہے۔ اور اسلام اور احمدیت کا پیغام ہم نے بہر حال ہر صورت میں دنیا تک پہنچانا ہے اور اس کے لئے ہر طرح کی کوشش کرنی ہے۔ انصار کی عمر ایک ایسی عمر ہے جس میں تبلیغ میں بہت ساری سہولتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور اُس کی وجوہات ہیں۔ طبیعت میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے، اس عمر میں جذبات پر کنٹرول بھی عموماً پیدا ہو جاتا ہے۔ خیالات بھی میچور (mature) ہو چکے ہوتے ہیں۔ پھر علم اور تجربہ بھی اس حد تک ہو جاتا ہے جس سے وہ خود بھی فائدہ