سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 408
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 388 اپنی اولاد کی تربیت کی فکر کریں اور ان پر معاشرے کے غلط رنگ نہ دو پیارے انصار بھائیو ! چڑھنے دیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مکرم صدر صاحب انصار الله جرمنی نے سالانہ اجتماع کے لئے مجھ سے پیغام بھیجوانے کی درخواست کی ہے۔ اس موقع پر میں آپ کو تربیت اولاد کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ جس کا بہترین طریق یہ ہے کہ خود اپنا نیک نمونہ ان کے سامنے پیش کریں اور ان کے لئے دعائیں کریں۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: دو بعض لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اولاد کے لئے کچھ مال چھوڑنا چاہیے۔ مجھے حیرت آتی ہے کہ مال چھوڑنے کا تو ان کو خیال آتا ہے۔ مگر یہ خیال ان کو نہیں آتا کہ ایسے لوگ اولاد کے لئے مال جمع کرتے ہیں اور اولاد کی صلاحیت کی فکر اور پروا نہیں کرتے۔ وہ اپنی زندگی ہی میں اولاد کے ہاتھ سے نالاں ہوتے ہیں اور اس کی بد اطواریوں سے مشکلات میں پڑ جاتے ہیں اور وہ مال جو انہوں نے خدا جانے کن کن حیلوں اور طریقوں سے جمع کیا تھا، آخر کار بدکاری اور شراب خوری میں صرف ہو تا ہے اور وہ اولا د ایسے ماں باپ کے لئے شرارت اور بد معاشی کی وارث ہوتی ہے۔ اولاد کا ابتلاء بہت بڑا ابتلا ہے۔ اگر اولاد صالح ہو تو پھر کس بات کی پر واہ ہو سکتی ہے۔ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے۔ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ (الاعراف: 197) یعنی اللہ تعالیٰ آپ صالحین کا متولی اور متکفل ہوتا ہے۔ اگر بد بخت ہے تو خواہ لاکھوں روپیہ اس کے لئے چھوڑ جاؤ وہ بدکاریوں میں تباہ کر کے پھر قلاش ہو جائے گی اور ان مصائب اور مشکلات میں پڑے گی جو اس کے لئے لازمی ہیں۔ جو شخص اپنی رائے کو خدا تعالیٰ کی رائے اور منشاء سے متفق کرتا ہے وہ اولاد کی طرف سے مطمئن ہو جاتا ہے اور وہ اسی طرح پر ہے کہ اس کی صلاحیت کے لئے کوشش کرے اور دعائیں کرے ۔۔۔ اولاد کے لئے اگر خواہش ہو تو اس غرض سے ہو کہ وہ خادم دین ہو۔“ ( ملفوظات 445-443 ج4 صفحہ