سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 402 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 402

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 382 جماعتی عہدیدار ایک خادم ہوتا ہے پس کامیابی نتیجہ ہے ، سنتے ہی اطاعت کرنے کا۔ اللہ اور رسول کے نام پر جو احکامات دیئے جائیں ان کو سنتے ہی اطاعت کرنے کا نتیجہ کامیابی ہے۔ اور یہ سننا اور اطاعت کرنا اُن تمام باتوں کے لئے ہے جن کے کرنے اور نہ کرنے کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔ مثلاً قرآن کریم فرماتا ہے کہ اپنی امانتوں کا حق ادا کرو۔ آپ کی امانتیں آپ کی ذمہ داریاں ہیں۔ ایک ذمہ داری جس طرح پڑتی ہے ، انسان اسے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ امانتیں جو آپ کے سپرد کی گئی ہیں وہ بھی اُسی طرح کی ذمہ داری ہے جن کے کرنے کا آپ کو حکم ہے۔ عہدیدار ہیں تو اُن کا جماعت کے لئے وقت دینا اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرنا، افرادِ جماعت کے حقوق کی ادائیگی ائیگی کی کوشش کرنا، یہ امانتیں ہیں۔ ایک (جماعتی) عہدیدار کوئی دنیاوی عہدیدار نہیں ہے جس نے طاقت کے بل پر اپنے کام کروانے ہیں بلکہ وہ خادم ہے۔ حدیث میں بھی آتا ہے کہ قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے۔ (الجامع الصغير حرف السين صفحه نمبر 292 حدیث نمبر 4751 دار الكتب العلمية بيروت 2004ء) پس اس خدمت کے جذبے کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ تبھی جو خدمت، جو امانت آپ کے سپر د ہے آپ اُس کا حق ادا کر سکتے ہیں۔ میرے پاس جب بعض لوگ آکر یہ کہتے ہیں کہ میرے پاس فلاں فلاں عہدہ ہے تو میں عموماً یہ کہا کرتا ہوں کہ یہ کہو کہ فلاں خدمت میرے سپرد ہے۔ دوسر ا تو بیشک عہدیدار کہے لیکن خود اپنے آپ کو خادم سمجھنا چاہیے اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے خدمت کا موقع دیا ہوا ہے۔ کیونکہ عہدہ کہنے سے سوچ میں فرق پڑ جاتا ہے۔ ایک بڑے پن کا احساس زیادہ ہو جاتا ہے ، بڑے پن کا احساس اس طرح کہ دماغ میں ایک افسرانہ شان پیدا ہو جاتی ہے ، جبکہ عہدیدار ، جماعتی عہدیدار ایک خادم ہو تا ہے اور جب عہدیدار اپنی امانتوں کے حق ادا کر رہے ہوں گے تبھی وہ خلافت کے ، خلیفہ وقت کے حقیقی مدد گار بن رہے ہوں گے۔ عہدیداروں کی عزت اور احترام افراد جماعت پر یقینا فرض ہے۔ لیکن وہ یہ صرف اس لئے