سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 39
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 19 انصار اللہ کی تنظیم کا قیام اور اس کے مقاصد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : حضرت مصلح موعودؓ جن کو اپنے بچپن سے ہی اور جوانی میں ہی ہر وقت فکر دامن گیر رہتی تھی کہ کس طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے بعثت کے مقصد کو پورا کیا جائے اور آپ کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچایا جائے۔ اور خلیفہ منتخب ہونے سے پہلے ہی آپ اس بارہ میں بہت سوچا کرتے تھے اور دعائیں کیا کرتے تھے۔ چنانچہ فروری 1911ء میں آپ کو کو عالم رؤیا میں دکھایا گیا کہ ایک بڑے محل کا ایک حصہ گرایا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ایک میدان میں ہزاروں پتھیرے اینٹیں پات رہے ہیں۔ آپ کو بتایا گیا یہ محل جماعت احمد یہ ہے اور پتھیرے فرشتے ہیں اور محل کا ایک حصہ گرایا جا رہا ہے تا کہ بعض پرانی اینٹیں خارج کر کے بعض کچی اینٹیں پکی کی جائیں اور نئی اینٹوں سے محل کی توسیع کی جائے۔ نیز معلوم ہوا کہ جماعت کی ترقی کی فکر ہم کو بہت کم ہے اور فرشتے ہی اللہ تعالیٰ سے علم پاکر یہ کام کر رہے ہیں۔ اس خواب کی بناء پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے خلافت سے پہلے ہی ایک انجمن بنانے کا فیصلہ کیا تا کہ اس کے ذریعے سے احمدیوں کے دلوں میں ایمان کو پختہ کیا جائے اور فریضہ تبلیغ کو با اصل وجوہ ادا کیا جائے۔ چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے نہ صرف خود استخارہ کیا بلکہ کئی اور بزرگوں سے استخارہ کروایا اور کئی ایک دوستوں کو اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارات ہوئیں تب آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی اجازت سے (وہ دور حضرت خلیفة المسیح الاوّل کا دور تھا) ایک انجمن انصار اللہ کی بنیاد ڈالی اور اخبار بدر میں مفصل اعلان کروایا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے ، جو اُن دنوں میں بیمار تھے، بیماری کے باوجود آخر تک اس مضمون کا مطالعہ کیا اور حضرت صاحبزادہ صاحب سے فرمایا کہ میں بھی آپ کے انصار اللہ میں شامل ہوتا ہوں کیونکہ یہ پاک دل سے اُٹھی ہوئی ایک پاک تمنا تھی اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے بھی اس کام کو سراہا اور ظاہر ہے اس لئے بھی اس کی قدر کی کیونکہ جیسا کہ بعض اور حوالوں سے ظاہر ہوتا ہے آپ کے علم میں تھا کہ آئندہ جماعت کی باگ ڈور اس شخص کے ہاتھ